Skip to main content
مینیو
Samuel steht vor seinen Stoffen.
سیموئل اپنے آبائی شہر کمسائی میں اپنے سلائی کے کارخانے میں

وہ کپڑا جس سے فیشن کا ایک نیا آغاز ہوا

سیموئل نے یورپ میں بہتر زندگی کی تلاش میں گھانا چھوڑا ۔کئی کٹھن سالوں کے بعد وہ واپس گھانا آچکے ہیں اور  اب اپنے آبائی وطن میں نئی زندگی شروع کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بڑی احتیاط کے ساتھ خود کے کپڑے کے کارخانے کا منصوبہ تشکیل دیا یہاں تک کہ وہ اُس وقت جرمنی میں ہی تھے۔

سٹوٹ گارٹ اکتوبر2020۔گھانا سے تعلق رکھنے والے سیموئل ایک میز پر بیٹھے ہیں اور اُن کے سامنے کاغذات کا ڈھیر لگا ہے؛ اُن کے سامنے اُمیت کیپنیک بیٹھے ہیں۔ کیپینیک آربیٹ سگیمینسشافٹ فار ڈی این ویلٹ (اے جی ڈی ڈبلیو۔ون ورلڈ ورکنگ گروپ) میں واپسی کے مشیر ہیں اور گزشتہ کئی ماہ سےمختلف کاموں میں سیموئل کی مدد کررہے ہیں۔ سیموئل نے ایک دستاویز اٹھائی:جس پر عنوان "کاروباری منصوبہ" درج تھا اور اُس کے نیچے ایک موٹی سی لکیر کھنچی ہوئی تھی۔ یہ منصوبہ سیموئل نے ایک اور مشیر اسماعیل سینتوس کی مدد سے تشکیل دیا ہے،اسماعیل کا تعلق سوشل امپکٹ سے ہے۔ سیموئل کا اپنے آبائی وطن میں خود کا کپڑا بننے کا کارخانہ لگانے کا منصوبہ اب ایک ٹھوس شکل اختیار کرچکا ہے۔ 40 سالہ شخص جلد ہی گھانا جانے والے ہیں۔

اس پورے عمل کے دوران اُنہیں "نئے مواقعوں کی جانب واپسی" پروگرام کے ذریعے مدد حاصل رہی، یہ پروگرام وفاقی وزارت برائے اقتصادی تعاون اور ترقی (بی ایم زیڈ) کی جانب سے چلایا جارہا ہے۔ ڈوئچے گیسل شافٹ فار انٹرنیشنل زوسامینربیٹ(جی آئی زیڈ) جی ایم بی ایچ اس منصوبے پر عمل کراتا ہے۔معاشرے سے جوڑنے والے رضاکاروں کی بڑی تعداد"نئے مواقعوں کی جانب واپسی" کا حصہ ہیں۔یہ جرمنی کے اندر واپسی کے حوالے سے مشاورت اورہر واپس لوٹنے والے کو انفرادی معلومات اور رابطے فراہم کرکے مدد کرتے ہیں۔  سٹوٹ گارڈ میں رضاکارانیکا ایبرہارڈٹ نے ابتدائی مرحلے میں گھانا میں گھانین-جرمن سینٹر فار جابز، مائیگریشن اینڈ ری اینٹی گریشن(جی جی سی) سے رابطہ کیا اور اب بھی یہ رابطے برقرار ہیں۔ جی جی سی بھی "نئے مواقعوں کی جانب واپسی" پروگرام کا حصہ ہے۔

Samuel zurück in Ghana
مستقبل:سیموئل گھر واپس جانے اور نئی زندگی شروع کرنے کیلیے اچھی طرح سے تیار ہیں۔

ماہر /ہرفن مولا بننے کی تربیت

واپسی سے قبل سیموئل نے اسپارک اسینٹفٹنگ کی جانب سےنیاکاروبار شروع کرنے میں مدد کے حوالے سے منعقدہ تربیت میں حصہ لیا۔ یہ ادارہ جی آئی زیڈ کا شراکت دار ہے اور مختلف کورسز کراتا ہے تاکہ واپس لوٹنے والوں کو اپنے آبائی وطن میں کامیابی سے کاروبار شروع کرنے کی تیاری کرائی جاسکے۔سیموئل کے کورس میں ماہر/ہرفن مولا بننے کی تربیت بھی شامل تھی تاکہ وہ مستقبل میں بطور نیٹ ورکنگ ایجنٹ کام کرتے ہوئے گھانا کےلوگوں کو مشورے دیں اور اُن کے رابطوں کا مرکز بنیں۔انیکا کہتی ہیں "سیموئل کے حوصلے بلند ہیں اوراُن میں واپسی کے بعد نئے سرے سے زندگی شروع کرنے کی طاقت ہے۔"

سیموئل نے2010 میں گھانا چھوڑا-آغاز میں وہ اٹلی گئے۔اب وہ کہتے ہیں"زندگی بالکل بھی ویسی نہیں تھی جیسی میں نے سوچی تھی اگرچہ میرے پاس کام(مزدوری/نوکری) کرنے کا اجازت نامہ بھی تھا لیکن وہاں نوکریاں نہیں تھیں۔ مجھے ایک ریستوران میں کام ملا لیکن وہاں کی تنخواہ اتنی بھی نہ تھی کہ میرے اخراجات پورے ہو سکیں۔"2017 میں وہ بہتر مستقبل کی آس لیے جرمنی منتقل ہوگئے لیکن اُن کے خواب حقیقت کا روپ نہیں دھار سکے۔"

نئی شروعات

سیموئل سمجھانے کے انداز میں کہتے ہیں کہ"میں نے فیصلہ کیا کہ بہتر ہوگا میں واپس گھانا جاؤں اور نئے سرے سے زندگی شروع کروں۔"وہ سٹوٹ گارڈ میں گھانا یونین(گھانین شہریوں کی تنظیم)کے پاس مدد کیلیے گئے اور فضائی سفر کے کرائے میں مدد حاصل کی۔ لیکن کورونا کی وبا کے باعث وہ اُڑان نہ بھرسکے جیسا کہ انہوں نے سوچا تھا۔ سیموئل کا کہنا ہے کہ" یہ میرے لیے خوش قسمتی کا باعث بنا۔" اس کے بعد گھانا یونین نے اُن کا رابطہ اے جی ڈی ڈبلیو کے واپسی مشاورتی مرکز سے کرایا،جہاں انہوں نے اُن کی فراہم کردہ مشاورت اور نئے کاروبار کیلیے تربیت سے فائدہ اٹھایا۔

 

سیموئل کہتے ہیں" میں نے وہاں بہت کچھ سیکھا اور مجھے یقین ہے کہ میں اپنے کاروبار میں اِس  کو استعمال کرسکوں گا۔" وہ خاص طور پر اپنے کپڑا بننے کے کارخانے کو روایتی کینتے کپڑا بنانے میں استعمال کرنا چاہتے تھے۔ یہ خیال بیٹھے بِٹھائے نہیں آگیا۔"یورپ جانے سے قبل میں نے گھانا میں سیکھا تھا کہ کینتے کپڑے کی بنائی کیسے کرتے ہیں۔ یقیناً یہ منصوبہ اُصولی طور پر پہلے ہی وجود میں آچکا ہے کیونکہ ہجرت سے قبل سیموئل کپڑے کے کارخانے میں شراکت دار تھے۔ اب وہ اس کارخانے کو تنہا مالک کے طور پر چلائیں گے،اُس مہارت کے ساتھ جوانہوں نے جرمنی میں تربیتی نشستوں کے دوران حاصل کی اور چیزوں کو پیشہ ورانہ رنگ دیں گے۔

Samuel und sein Berater sitzen auf einer Bank und unterhalten sich.
سیموئل جی جی سی کے مشیر سے گفتگو کررہے ہیں۔

آکرا میں مشاورتی مرکز کے ساتھ مسلسل رابطے

نومبر2020۔وہ وقت آگیا جب سیموئل کو گھانا کیلیے اُڑان بھرنا تھی جہاں اُن کے اہلخانہ پہلے سےاُن کے منتظر تھے۔ واپسی کے بعد آکرا میں اُن کی ملاقات جی سی سی کے مشیر سے ہوئی۔وہ جرمنی میں قیام کے دوران بھی مشاورتی ٹیم سے رابطے میں تھے، مثال کے طور پر سوشل امپکٹ پر تربیت کے دوران۔ سیموئل  جب پہلی بار مرکز میں داخل ہوئے تو انہوں نے چمک دار قمیض زیب تن کررکھی تھی اور وہ کافی پُرامید نظر آرہے تھے۔انہوں نے تقریباً2 گھنٹے تک مشیر ایرنیسٹینا ادو سے بات چیت کی۔ انہوں نے زیادہ تر بات واپس آنے والوں کے ماضی کے مشکل وقت کے بارے میں کی۔

ایرنیسٹینا ادو سیموئل کی بلند نظری سے کافی متاثر ہوئیں اوراُن کے مقصد کے حصول میں مدد کرنا چاہی۔"ہم نے اس سفر میں اُن کی مدد کی اور اُنہیں اُمید اور حوصلہ دیا جس کی اُنہیں ضرورت تھی تاکہ وہ آسانی سے نئی شروعات کرسکیں۔" گفتگو کے بعد سیموئل نے کپڑے کا کارخانہ دیکھنے اور اپنے منصوبوں کو حتمی شکل دینے کیلیے کمسائی کی راہ لی۔

Samuel webt einen bunten Stoff.
قدیم علم:سیموئل روایتی کپڑے کی بُنائی کا کارخانہ چلانا چاہتے ہیں جو کہ وہ ماضی میں بھی کرتے رہے ہیں۔

وسیع تجربہ اور نئی معلومات

گھانا،جنوری 2021۔ایرنیسٹینا ادو کہتی ہیں "ہمیں یقین تھا کہ وہ کامیاب ہوسکتے ہیں ۔وہ کپڑا بننے کے کاروبار کو اچھے سے جانتے تھے کیونکہ وہ یہاں سے جانے سے قبل یہ کرتے تھے۔" مشیر نے تربیتی کورس کی جانب بھی اشارہ کیا جوکہ سیموئل نے جرمنی میں کیا تھا اور اِس نے سیموئل کو اچھے سے تیار کردیا تھا۔"میں مان چکی تھی کہ وہ اپنے کاروبا ر کیلیے اپنے علم کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرسکتے ہیں۔"

سیموئل اس بات سے متفق ہیں اور اُنہوں نے ایرنیسٹینا کو بتایا کہ وہ کینتے کپڑے کے شعبے میں نئے رابطے استوار کرنا شروع کرچکے ہیں۔ یہ رابطے خام مال کے حصول اور کاروبار کو بڑھانے میں مدد فراہم کریں گے۔ جی سی سی کے ساتھ مشاورت اور تربیتی کورسز سے سیموئل کے حوصلے بلند ہیں اور اُنہیں یقین ہے کہ وہ نئی شروعات کیلیے تیار ہیں۔ اگلے5سالوں میں میں خود کو  گھانا کا سب سے بہترین روایتی کپڑا تیار کرنے والے کے طور دیکھتا ہوں۔

As of: 01/2021

میں نے جرمنی میں بہت کچھ سیکھا اور مجھے یقین ہے کہ میں اسکا اطلاق اپنے کاروبار میں کر پاؤں گا۔
Samuel

More blog posts