Skip to main content
مینیو

"ہمارا مقصد ہر شخص کیلیے حل تلاش کرنا ہے"

Ein Mann hält eine Broschüre in der Hand und erklärt etwas.
نیکسمیڈن باشا گفتگو کرتے ہوئے

"ہمارا مقصد ہر شخص کیلیے حل تلاش کرنا ہے"

بیرون ملک طویل وقت گزار کر کوسووولوٹنے والے زیادہ تر افراد صدمات جھیلتے ہیں۔ لوگوں کیلیے کوسووو میں نوکری حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے اور یہ بھی اُن کی ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

پریسٹینا میں جرمن انفارمیشن سینٹر فار مائیگریشن، ووکیشنل ٹریننگ اینڈ کریئر (ڈی ماک کوسووو) واپس لوٹنے والوں اور مقامی افراد دونوں کو نفسیاتی مدد فراہم کرتا ہے۔ ڈی ماک میں واپسی کے مشیر نیکسمیڈن باشا کہتے ہیں"ان میں سے ہر کسی کی مشکلات مختلف ہوتی ہیں اور ہمارا مقصد ہر کسی کیلیے حل تلاش کرنا ہے۔" اِن کے پاس نفسیات میں ماسٹر کی ڈگری ہے، اور اِنہیں نفسیاتی مسائل اور مستقبل کی رہنمائی میں عبور حاصل ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے ہمیں بتایا کہ رہنمائی کی خدمات( کاؤنسلنگ سروس) کس طرح کام کرتی ہے۔

مسٹر باشا، ڈی ماک کس طرح کی نفسیاتی مدد فراہم کرتا ہے اور اِس سے کون استفادہ حاصل کرسکتا ہے؟

ہم واپس لوٹنے والوں اور مقامی افراد کو مشاورت فراہم کرتے ہیں جب اُن کی زندگی میں تبدیلی آئے یا پھر جب وہ نئی شروعات کررہے ہوں۔ہمارا تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ واپس لوٹنے والے تقریباً تمام افراد کیلیے اپنے آبائی وطن میں نئی شروعات انتہائی مشکل ہوتی ہے۔ زیادہ تر  افراد کوگھر کی یا پھر پیسوں کی مشکل ہوتی ہے۔ اکثر  اُن کے بچےبھی وہاں کے ماحول میں آسانی سے نہیں رہ پاتے، چاہے وہ اسکول ہو یا نرسری۔ ہم مختلف طریقوں سے لوگوں کی مدد کرتے ہیں، جیسے کہ تقرری کے حوالے سے خدمات، نفسیاتی مشاورت اور پیشہ وارانہ مدد۔ ہم نفسیاتی مدد انفرادی طور پر اور اُس کے ساتھ ساتھ اجتماعی طور پر یعنی تمام اہلخانہ کیلیے فراہم کرتے ہیں۔اس دوران ہوئی گفتگو مکمل رازداری کے ساتھ ہوتی ہے۔

 

کیا لوگوں کو نفسیاتی مشاورت کیلیے رقم کی ادائیگی کرنا ہوتی ہے؟

ڈی ماک کی جانب سے فراہم کی جانے والی تمام خدمات بالکل مفت ہوتی ہیں۔ اس کا انحصار ضرورت پر ہے،ہم لوگوں کو کوسووار ادارے بھی بھجواتے ہیں جہاں اُنہیں طویل المدتی علاج فراہم کیا جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں ہم یہ یقینی بناتے ہیں کہ یہ ادارے بھی مشاورت بالکل مفت فراہم کریں۔

نفسیاتی نگہداشت کتنے عرصے اورکیسے کام کرتی ہے؟

نگہداشت کا انحصار معاملے(کیس) پر ہے، یہ چند ہفتوں سے 6ماہ کے دوران ہے۔ ہماری گفتگو کا دورانیہ بھی مختلف ہوتا ہے۔اگرچہ یہ عمل کافی یکساں ہوتا ہے: ابتدا میں لوگ مجھے اپنے تجربات اور جذبات بتاتے ہیں۔ میں پہلی ملاقات میں فرد کے حالات پر توجہ مرکوز رکھتا ہوں۔ میں اِن سوالات کے ساتھ دیگر سوالات بھی پوچھتا ہوں: "گھر لوٹنے سے پہلے اور بعد میں آپ کا تجربہ کیسا رہا؟" "کیا کوئی ایسی چیز تھی جس نے آپ کی صورتحال کو خراب کیا؟" "آپ کا سب سے بڑا ذاتی چیلنج کیا ہے؟" اور میں فرد کے جوابات پر ابتدائی جائزہ حاصل کرتا ہوں۔ یہ مجھے متاثرین کو بہترین ممکنہ مدد کی پیشکش کے قابل بناتا ہے۔یہ گفتگو ہفتے میں ایک بار یا دو بار ہوتی ہے جس کا انحصار فرد کی جذباتی حالت پر ہوتا ہے۔

 

کیا آپ اپنی مشاورت سے کوئی مثال دیکھ سکتے ہیں؟

مجھے ایک خاتون یاد ہیں جنہیں کوسووو واپس لوٹنے کے فوری بعد مشکل وقت سے گزرنا پڑا۔ جب وہ ہمارے پاس آئیں تو اُن کی زندگی کافی مشکل تھی۔وہ اور اُن کی بیٹیاں جرمنی سے واپس آئی تھیں لیکن اُن کے خاوند وہیں رہ گئے تھے۔ خاتون اور اُن کے بچوں کو اُن کے اپنے اہلخانہ(میکے) اور خاوند کے گھروالوں(سسرال) کی جانب سے خوش آمدید نہیں کیا گیا۔یہاں تک کہ ہماری پہلی ملاقات میں خاتون نے شدید دباؤ اور عدم استحکام کے اشارے دیے۔ وہ اپنی زندگی اور بچوں کے مستقبل کے حوالے سے کافی خوفزدہ تھیں۔یہ واضح تھا کہ نفسیاتی مدد سے اُن کو فائدہ ہوگا۔

Ein Mann steht vor einem Whiteboard, auf das jemand „Stresssymptome“ geschrieben hat.
باشا اپنے مؤکل کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ ذاتی مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ نکالا جا سکے۔

آپ نے یہ کیسے کیا؟

میں نےآغازمیں نفسیاتی"ابتدائی طبی امداد" فراہم کی۔ ہم نے مشترکہ طور پر خاتون کے تناؤ کی علامات پر غور کیا اور اس کے ساتھ تناؤ کو کم کرنے اور ذہنی حالت کو مستحکم کرنےپر توجہ دی۔ اس کیلیے سب سے اہم رہائش کا انتظام تھا۔ اس کے بعد ہم نے گفتگو کے ذریعےاُن کی مضبوطی اور مہارت پر کام کیا۔  اس کے چند ماہ بعد جب اُن کی طبیعت بہتر ہوئی تو ہم نے اُن کیلیے نوکری تلاش کرنا شروع کی۔ ہمارا مقصد کھانے کیلیے اُن کے جذبے کو نئے پیشے میں تبدیل کرنا تھا۔ہمارے حوالوں اور مدد کے ساتھ خاتون نے کھانا پکانے کی پیشہ وارانہ تربیت کیلیے کامیابی کے ساتھ درخواست دی۔ اسی دوران  اُنہیں ریسٹورنٹ میں بطور باورچی کام مل گیا۔ اب کوسووو میں اُن کا اور بچوں کا گھر اور مستقبل دونوں ہے۔

As of: 06/2021

ہمارا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ تقریباً تمام لوٹنے والوں کو ہی آبائی ممالک میں دوبارہ سے شروعات میں مشکل ہوتی ہے۔
نیکسمیڈن باشا