Skip to main content
مینیو

بطور پائٹ فٹر اپنا کاروبار

Ein Mann repariert einen Trinkwasseraufbereiter.

میر نام احمد ہے،میری عمر21سال اور میں افغانستان سے آیا ہوں لیکن میرے بچپن کا بڑا حصہ ایران میں گزرا ہے۔2011 میں ہم سارےگھر والے افغانستان واپس لوٹے، ہم ہمیشہ سے ہی معاشی مشکلات سے لڑتے رہےلیکن اب ایسا نہیں ہے، جس کیلیے میں بیٹر میکرز سوشل آرگنائزیشن(بی ایم ایس او) کی مدد کا شکرگزار ہوں۔

بی ایم ایس او نے بطور پائپ فٹر(پائپ کی تنصیب کرنے والا)مجھےتربیت دی اور اب یہی میرا روزگار ہے۔ اس سے مجھے تحفظ ملا کیونکہ افغانستان کی تعمیراتی صنعت میں اس کی ہمیشہ ہی ضرورت ہوتی ہے۔ تربیت کے دوران میں نے نئے دوست اور تعلقات بنائے۔ ہم ایک دوسرے کی مدد کی کوشش کرتے ہیں جہاں تک ہم کرسکیں۔

افغانستان میں جنگ کی وجہ سے میرے اہلخانہ نے کافی وقت پہلے ایران میں پناہ لے لی تھی۔میری اُس وقت کی یادیں بہت مبہم ہیں کیونکہ میں اُس وقت بہت چھوٹا تھا۔جو مجھے یاد ہے وہ یہ کہ ہم ایران میں اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے قابل نہیں تھے۔ہمیں وہاں اپنا کاروبار شروع کرنے کی اجازت نہ تھی۔اس سب کے باوجود ہم کافی وقت تک ایران میں ہی رہے کیونکہ وہاں ہم خود کو محفوظ تصور کررہے تھے اور اپنے آبائی وطن میں جنگ سے خوفزدہ تھے۔

چند شاندار لوگوں سے ملاقات

جب افغانستان میں حالات بہتر ہوئے تو ہم گھر واپس لوٹ آئے۔مجھے دوست کے توسط سے بی ایم ایس او کا پتہ  چلا۔ میں نے اسکول کی پڑھائی کے ساتھ تجارت سیکھنے کا فیصلہ کیا۔

تربیت کا دورانیہ تقریباً45 روز تھا اور میرےساتھ 15لوگ تھے۔میں چند شاندار لوگوں سے ملا جو اب بالکل میرے بھائیوں جیسے ہیں۔اس وقت ہماری سب سے بڑی مشکل خود کے اوزار نہ ہونا ہے۔اس لیے میں نے بی ایم ایس او کے ڈائریکٹر سے ادارے کے اوزار اُدھار پر لینے کی بات کی، جب تک ہم خود کے اوزار لینے کے قابل نہیں ہوجاتے۔وہ مان گئے، جن کے ہم انتہائی شکرگزار ہیں اور اس وقت ہم ادھار کے اوزاوں کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ اس وقت ہم 4 مکانوں میں پائپ کی

 

تنصیب کا کام کررہے ہیں۔جب کام مکمل ہوگا اور ہمیں پیسے مل جائیں گے تو ہم اُدھار کے اوزار واپس کرکے اپنے ذاتی اوزار لینے کے قابل ہوجائیں گے۔

ہم جو کرنا چاہتے ہیں وہ نوکری ہے:جب اپنے ملک میں ہی کام موجود ہے تو اسے چھوڑنے کی کوئی وجہ نہیں۔ کیونکہ ہم سب کو اُمید ہے کہ جنگ دوبارہ شروع نہیں ہوگی۔

As of: 12/2020

ہم جو کرنا چاہتے ہیں وہ نوکری ہے:جب اپنے ملک میں ہی کام موجود ہے تو اسے چھوڑنے کی کوئی وجہ نہیں۔
Ahmad