Skip to main content
مینیو

ہم رابطے میں رہیں گے!

Eine Frau steht vor einer Hecke und blickt in die Kamera. Es ist Beraterin Nighat Aziz.

ہم رابطے میں رہیں گے!

پاکستانی جرمن فیسیلیٹیشن اینڈ ری اینٹی گریشن سینٹر(پی جی ایف آر سی) کا آغاز ستمبر 2020 میں ہوا اور اِنہوں نے کورونا کی وبا کے دوران اپنے کام کی شروعات کی۔اس بحران کے دوران بھی ادارے کے افراد نئی شروعات کیلیے لوگوں کی مدد کرتے رہے۔ہم نے مشیر نگہت عزیز اور فیصل شبیر سے سوال جواب پوچھے، جنہوں نے ہمیں بتایا کہ کام کس طرح ہوتا ہے۔

عزیز صاحبہ اور شبیر صاحب،آپ پی جی ایف آر سی کے کام کو کس طرح بیان کریں گے؟

شبیر:جب لوگ بیرون ملک سے واپس لوٹتے ہیں تو ہم معاشرے سے جڑنے اور نوکری کی تلاش میں اُن کی مدد کرتے ہیں۔ہماری مدد کئی قسم کی ہے کیونکہ ہم اور ہمارے شرکت دارتربیت،مزید تعلیم،نوکری کے حصول اور نفسیاتی مدد فراہم کرتے ہیں۔ ہم نئے کاروبار کی شروعات کیلیے بھی مدد فراہم کرتے ہیں۔پی جی ایف آر سی "ریٹرننگ ٹو نیو اپورچیونیٹیز"(نئے مواقعوں کی جانب واپسی) منصوبے کا حصہ ہے، جس کو ڈوئچے گیسل شافٹ فار انٹرنیشنل زوسمیناربیٹ(جی آئی زیڈ) جرمنی کی وفاقی وزارت برائے اقتصادی تعاون اور ترقی کی جانب سے چلاتا ہے۔

Faisal Shabbir

پی جی ایف آر سی میں مشاورت کیلیے کون آسکتا ہے؟

عزیز:ہم صرف جرمنی اور دیگر ممالک سے پاکستان لوٹنے والوں کو مشورے نہیں دیتے بلکہ ہم مقامی آبادی کی بھی مدد کرتے ہیں۔اس میں وہ بھی شامل ہیں جو پاکستان میں داخلی طور پر پناہ گزین ہوں۔ مشاورت فراہم کرتے وقت ہمیں مرکز کے وسیع نیٹ ورک کا بھی فائدہ ہوتا ہے،جس میں قومی، بین الاقوامی اور سماجی ادارے شامل ہیں۔

مشاورت کا یہ عمل کس طرح کام کرتا ہے؟

شبیر:میں اس کو مثال کے ذریعے بیان کرسکتاہوں۔حال ہی میں ہم نے ایک نوجوان کو مشاورت فراہم کی جو جرمنی میں5سال گزارنے کے بعد2019کے اختتام پر پاکستان واپس لوٹے تھے۔آغاز میں اُنہوں نے جرمنی میں  واپسی کےمشاورتی مرکزسے رابطہ کیااور وہاں ری اینٹی گریشن (معاشرے سے جوڑنے والے)رضاکارسےملے۔اُس رضاکار نے ہمیں اس حوالے سے مطلع کیا۔واپس لوٹنے والے اپنا ذاتی کاروبار شروع کرنا چاہتے تھے۔تو ہم نےتمام مناسب مواقعوں کے حوالے سے معلومات تیار کیں اور رضاکار نے آن لائن میٹنگ کا اہتمام کیا جس سے ہم ایک دوسرے کو سمجھ سکے۔

اُن کی واپسی کے بعد کیا ہوا؟

شبیر: وہ بالمشافہ بات چیت کیلیے ہمارے مرکز آئے اور ہم نے  اُنہیں بتایا کہ کس طرح کامیابی کے ساتھ نیا کاروبار شروع کیا جاسکتا ہے ۔سب سے اہم چیز جو تھی وہ یہ کہ انہوں نے سوشل میڈیا(سماجی رابطوں کی ویب سائٹس) کے ذریعے نئی حکمت عملی تیار کررکھی تھی۔مجھے یہ بتاتے ہوئے بہت خوشی ہورہی ہے کہ وہ صوبہ پنجاب کے شہر کھاریاں میں موبائل فون کے کاروبار کے مالک ہیں۔ ہم اکثر اُن کے ساتھ خیالات کا تبادلہ کرتے ہیں اور اُنہیں مشورے دیتے ہیں کہ کس طرح وہ اپنے کاروبار کو وسعت دے سکتے ہیں۔

کورونا کی وبا کے دوران کام کرنا کیسا تھا؟

عزیز:پاکستانی حکومت کے مطابق مارچ سے ستمبر2020 کے دوران 70 ہزار پاکستانی تارکین وطن اپنے ملک واپس لوٹے تو ایسے میں مدد کی ضرورت بڑھ گئی۔ کورونا کی وبا کے باوجود لاہور میں اپنے مرکز میں حفظان صحت کے اُصولوں کے ساتھ بالمشافہ مشاورت فراہم کررہے ہیں اور جو لوگ ہمارے مرکز نہ آسکیں اُنہیں ہم آن لائن مشاورت دے رہے ہیں۔ ہم اس کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ مشکل حالات میں لوگوں کے ساتھ رابطے میں رہیں۔ہم ٹیلی فون اور اسکائپ پر رابطے میں رہتے ہیں تاکہ اُنہیں اس وقت تنہا نہ چھوڑیں۔

مشاورت فراہم کرتے وقت ہم مرکز کے وسیع نیٹ ورک کا بھی فائدہ اٹھاتے ہیں،جس میں قومی، بین الاقوامی اور سماجی ادارے شامل ہیں۔
Nighat Aziz