Skip to main content
مینیو

"بھروسہ ہماری سب سے اہم دولت ہے۔"

سنہ 2004 سے زینٹریل رکربیراتنگ سُدبائیرن (زیڈ آر بی – سینٹرل ریٹرن کاؤنسلنگ فار ساؤتھرن باویریا) پناہ حاصل کرنے والوں،مہاجرین اور ترقی پذیر ممالک  کے شہری جوکہ اپنے اپنے ملکوں میں رضاکارانہ واپسی کا سوچ رہے ہوں اُن کی مدد کرتا ہے۔ اس ماہر ادارے کا مرکز آگسبرگ میں ہے اور یہ باویریا میں 4 مقامات پر مشاورت فراہم کرتا ہے۔ مارکوس فیبگر مولدورف کے کارتیاس مرکز میں زیڈ آر بی ٹیم میں کام کرتے ہیں انہوں نے اس بارے میں بات کی کہ وہ لوگوں کو معاشرے سے جوڑنے کیلیے کس طرح تیار کرتے ہیں۔

Ein Mann mit weißem Hemd und einer auf den Kopf geschobenen Brille blickt in die Kamera.
مارکوس فیبگر مولدورف کے کاریتاس مرکز میں زیڈ آر بی ٹیم لیڈر ہیں۔

مسٹر فیبگر، آپ سے مشاورت کیلیے آنیوالے کس قسم کے مسائل اپنے ساتھ لیکر آتے ہیں؟

مارکوس فیبگر: ہمارے پاس وہ لوگ آتے ہیں جو اپنےگھر واپس لوٹنا چاہتے ہوں یا پھر وہ جنہیں لوٹنا پڑ رہا ہو کیونکہ جرمنی میں اُن کی پناہ کی درخواست مسترد کردی گئی۔ اُن میں سے تقریباً ایک تہائی لوگ وہ ہوتے ہیں جو پہلے ہی فیصلہ کرچکے ہوتے ہیں کیونکہ اُن کا کوئی اس دنیا کو چھوڑ چکا ہوتا ہے اور انہیں واپس جاکر اپنے گھر والوں کی ذمہ داری لینا ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر یا پھر سیاسی حالات بدل چکے ہوتے ہیں۔ دیگر لوگوں کو اتنے سال گزارنے کے بعد اپنے لیے مواقع دکھائی نہیں دیتے سوائے واپسی کہ اور اُنہیں واپسی کے سفر کیلیے مدد درکار ہوتی ہے۔ ہر کیس مختلف ہوتا ہے اور اس کو انفرادی طور پر دیکھنا ہوتا ہے۔ ہمارے مشورے آزادنہ اوربامقصد ہوتے ہیں ہم وقت لیتے ہیں اور آنے والوں کی سماجی اور صحت کی صورتحال کے ساتھ ساتھ معاشی اور رہائشی حیثیت کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ ہمارا بنیادی کام اُن کو رہنمائی اور مواقع فراہم کرنا ہے۔ ضروری نہیں کہ اس کے نتیجے میں واپسی ہی ہو ۔

Zwei Männer stehen sich auf einer Wiese gegenüber und begrüßen sich per Handschlag.
مارکوس فیبگر(دائیں جانب) اور سینیگال سے تعلق رکھنے والا واپس لوٹنے والا ایک شخص۔

آپ لوگوں کو اپنے آبائی ممالک میں واپس جڑنے کیلیے کیسے تیار کرتے ہیں؟

بطور فلاحی تنظیم ہماری توجہ لوگوں پر ہوتی ہے جو ذاتی مسائل کی وجہ سے مشکل حالات سے دوچار ہیں۔ جیسے کہ ہم نے ایک سنگل(تنہا) والدہ جن کا تعلق بالکنز سے تھا اور اُن کے تین بچے تھے اور اس میں سے کچھ بیمار بھی۔ اپنی قانونی حیثیت کے مطابق وہ بہت ہی محدود پیمانے پر امداد کی اہل تھیں۔ ہماری توجہ کا مرکز بچوں کا بہتر مفاد تھا تو ہم اُس خاندان کیلیے مقامی سماجی اور صحت کی خدمات مہیا کرپائے۔ ریاست کے زیر اہتمام چلنے والے مشاورتی مراکز میں کام کرنے والوں کا اکثر پالا امیگریشن(ہجرت) حکام سے متعلق دیگر شعبوں سے بھی پڑتا ہے۔ اس سے مراد ہے ہمارے پاس مقامی اور عالمی طور پر رابطے قائم کرنے اور برقرار رکھنے کیلیے وقت ہے۔ ہم
Deutsche Gesellschaft für Internationale Zusammenarbeit (GIZ) GmbH
اور یورپین ریٹرن اینڈ ری انٹی گریشن نیٹ ورک ای آر آر آئی این کے ساتھ کام کرتے ہیں اور اس کے ساتھ رضاکارانہ مددگار گروپس اور مقامی این جی اوز کے ساتھ شراکت کرتے ہیں۔

Zwei Männer sitzen sich gegenüber und blicken gemeinsam in Unterlagen.
مشاورت میں۔

واپس لوٹنے والوں کے ساتھ گفتگو کا مرکز کیا ہوتا ہے؟

ہمارا زیادہ تر کام اعتبار قائم کرنے کیلیے ہوتا ہے۔ ممکنہ واپس جانے والوں کیلیے اس بات کو یقینی بنانا اہم ہے کہ مشاورتی سیشنز کے اُن کیلیے کوئی منفی نتائج نہیں ہوں گے۔ مثال کے طور پر یہ ایک نوجوان سینگالیز کا معاملہ تھا جو کہ کام کی تلاش میں جرمنی آیا تھا۔ اُن کا تعلق ایک کسان خاندان سے تھا جو بمشکل ہی پڑھا لکھا تھا اور اُس کو بالکل بھی اندازہ نہیں تھا واپس جاکر اُس کا مستقبل کیا ہوگا۔ یہی موقع تھا اُس کی صلاحیت کے بارے میں جاننے کا۔ سوشل امپکٹ کی جانب سے کاروباری تدریس اور سینیگالیز – جرمن سینٹر فار جابز، مائیگریشن اینڈ ری انٹی گریشن (سی ایس اے ای ایم) پر مشیران کے ساتھ گفتگو نے اس میں مدد کی۔ اب وہ اپنی آبائی زمین پر کھیتی باڑی کرنے جارہا ہے۔ اس کےساتھ کچھ مددگاروں نے رقم بھی اکھٹا کی جس نے اُن کو اضافی خریداری کے قابل بنایا اور وہ نئی شروعات میں اس کو اچھے سے استعمال کرسکتے ہیں۔

آبائی ممالک میں جی آئی زیڈ کے مشاورتی مراکز کے ساتھ آپ کا تعلق کتنا اہم ہے؟

گھر واپس لوٹنے کے بعد براہ راست کسی مقامی رابطہ کار کی سوچ ہی کسی میں اعتماد بھردیتی ہے۔ ہم واپس لوٹنے والوں کے اندر بہت زیادہ خدشات محسوس کرتے ہیں اور ڈر بھی کہ واپس لوٹنے کے بعد واپسی مددگار پروگرام کے وعدے کھوکھلے تو ثابت نہیں ہوں گے؟ اُن کیلیے اس بات کا جاننا اہم ہے کہ اُن کے آبائی وطن میں مدد کیلیے ادارے موجود ہیں اور کچھ لوگ ہیں جو اُن کی مدد کرتے رہیں گے۔ اس کے ساتھ وہ ہم سے بھی رابطہ کرسکتے ہیں اور اگر کوئی مسئلہ ہو تو/ ہم بھی اپنا کردار ادا کریں گے۔

یہ بین الاقوامی مدد کس طرح کام کرتی ہے؟
 
زیادہ تر کیسز میں ہم صارف کی واپسی سے قبل مقامی مشاورتی مرکز میں رابطہ کرتے ہیں اور جہاں ممکن ہو ہم اِن مراکز کو ابتدائی مرحلے میں دوبارہ انضمام کے اقدامات کی تیاری میں شامل کرتے ہیں۔ ہم آن لائن سیشن کے ذریعے جی آئی زیڈ کے مقامی شراکت داروں کو شامل کرتے ہیں اور اِن ضروریات اور منصوبوں کی وضاحت کرتے ہیں جس کے ساتھ واپس لوٹنے والا اُن کے پاس آئے گا۔ دونوں ممالک میں مختلف شراکت داروں کا ایک نیٹ ورک اکثر اچھی چیزیں حاصل کرسکتا ہے۔

کیا آپ کسی مخصوص مثال کے بارے میں سوچ سکتے ہیں؟

ہمارے پاس ایک نائیجرین تھا جو گاڑیوں کی دکان کھولنا چاہتا تھا تو سب نے ساتھ مل کر اُس کیلیے ایک اچھا پیکج تیار کیا۔ وہ شخص 40 کے اوائل میں تھااور پڑھا لکھا نہیں تھا اوراُس نے بغیر کسی تربیت یا سرٹیفکیٹ کے مختلف گیراجوں میں کام کیا تھا۔

نیٹ ورک کی مشاورت کے ساتھ اُس کو باویرین اپملائیرز ایسوسی ایشن ووکیشنل ٹریننگ سینٹر (بی ایف زیڈ) میں چھ ماہ کا تیز رفتار خواندگی کورس کروایا گیا، انہوں نے سوشل امپیکٹ کے ساتھ مل کر کاروباری منصوبہ تشکیل دیا، اُنہیں انٹرنشپ دلائی گئی، انہوں نے جدید ورکشاپ ٹیکنالوجی کے بارے میں سیکھا، جس میں الیکٹرک کاروں کا معائنہ بھی شامل تھا۔ مددگاروں کے ایک گروپ نے مہم کا آغاز کیا اور اُن کی ورکشاپ کو آؒلات سے آراستہ کرنے کیلیے مزید فنڈز جمع کیے۔ تمام عمل اچھے سے تکمیل تک پہنچا۔ خوش قسمتی سے یہ شخص ابتدا میں ہی ہمارے پاس آگیا تھا کیونکہ اس طرح کی تیاری میں کافی وقت درکار ہوتا ہے۔

کیا یہ قابل قدر تھا؟

بالکل ۔ اب وہ اپنے علاقے کے ایک اور واپس لوٹنے والے کیساتھ رابطے میں ہیں جنہوں نے اپنی ویلڈنگ کی دکان کھولی اور دو لوگوں کو روزگار مہیا کیا۔ وہ اپنے حالات سے بہت خوش ہیں لیکن اُنہوں نے بھی اس کیلیے بہت محنت کی۔ آخرکار یہ ہمیشہ واپس لوٹنے کی شخصیت پر ہوتا ہے۔ ہم واپس لوٹنے والوں کیلیے مستقبل کے مواقع تیار کرتے ہیں لیکن اِن پیشکشوں کو قبول کرنے اور اِن سے مستفید ہونے کیلیے قدم اٹھانے اورکام کی انجام دہی کا خواہشمند ہونا چاہیے۔

As of: 07/2021

گھر واپس لوٹنے کے بعد براہ راست کسی مقامی رابطہ کار کی موجودگی کی سوچ ہی کسی کو بہت پُراعتماد بنادیتی ہے۔
مارکوس فیبگر

More blog posts