کوسووو میں اب میں میرا خود کا ہیئرسیلون ہے۔یہ میرےبچوں کیلیے بھی مستقبل کے مواقعوں کے دروازتے کھولتاہے۔
مجھے سربیا میں بیوٹی پارلر میں ایک نیا پیشہ ورانہ گھر مل گیا۔ یہاں تک کا میرا راستہ کافی طویل اور مشکل تھا۔
سیموئل نے یورپ میں بہتر زندگی کی تلاش میں گھانا چھوڑا ۔کئی کٹھن سالوں کے بعد وہ واپس گھانا آچکے ہیں اور اب اپنے آبائی وطن میں نئی زندگی شروع کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بڑی احتیاط کے ساتھ خود کے کپڑے کے کارخانے کا منصوبہ تشکیل دیا یہاں تک کہ وہ اُس وقت جرمنی میں ہی تھے۔
میں نے 2بار گھاناسے یورپ کیلیے رخت سفر باندھا اور دونوں بار مجھے کامیابی کے بغیر واپس لوٹنا پڑا۔اب میں اعتماد کے ساتھ اپنے مستقبل کی جانب دیکھ سکتا ہوں اور اس کیلیے میں گھانین-جرمن سینٹر فار جابز،مائیگریشن اینڈ ری اینٹی گریشن(جی جی سی) کا شکرگزار ہوں۔
تیونس میں حکومت کی زیر سرپرستی میں چلنے والے دو ووکیشنل کالجز نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو یہ سیکھاتے ہیں کہ کس طرح کیٹرنگ اور ہوٹل کی صنعت میں اپنا کیریئر(عملی مستقبل) شروع کریں۔
جو لوگ جرمنی میں عملی تربیت کا مظاہرہ کرسکتے ہیں اُن کے پاس اپنے آبائی وطن میں نوکری کی تلاش کے مواقع بڑھ جاتے ہیں۔اسی لیے جو واپس جانے کی خواہشمند ہیں وہ یہاں قینچی، ہیئر ڈرائیر اور بال رنگنے کی مشقیں کررہے ہیں۔
البانیا میں یہ پروگرام جی آئی زیڈ کی جانب سے کرایا جاتا ہے تاکہ نوجوان مرد اور خواتین کو ہوٹل انڈسٹری میں نوکری کیلیے تیار کیا جاسکے اور کامیابی کیساتھ نوکری کی تلاش کے امکانات کو بڑھایا جائے۔
ڈیوڈ یامینسا ٹیٹ آکرا میں گھانین جرمن سینٹر فار جابز،مائیگریشن اینڈ ری اینٹی گریشن (ایم آئی اے سی) کے ڈائریکٹر ہیں، اس مختصر انٹرویو میں انہوں نے سینٹر کے کام اورکس چیز نے اُنہیں ذاتی طور پر تحریک دی اُس حوالے سے بات چیت کی ہے۔
یورپ کیلیے میرا سفر لیبیا میں ختم ہوا لیکن اب میں اور میرا بھائی اپنے آبائی ملک نائجیریا میں خود کا ٹیلرنگ(درزی) کا کاروبار چلا رہے ہیں۔
کاروبار کو کامیابی سے چلانے کی چاہت تجارتی سوجھ بوجھ چاہتی ہے۔سپارک اسین سٹفٹنگ کی جانب سے کرایا جانے والا کورس سکھاتا ہے کہ اچھے طریقے سے علم کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے۔