Skip to main content
مینیو

فٹبالر سے بیکر بننے کا سفر

Ein Mann in einem gelben Shirt steht in einer Bäckerei. Im Hintergrund sind Brote zu sehen.

فٹبالر سے بیکر بننے کا سفر

میرا نام فائدہ ہے؛میری عمر23سال اور تعلق آکرا سے ہے۔میرا خواب یورپ کا کامیاب فٹبالر بننا تھا۔میں پیشہ ور  فٹبالربننا چاہتا تھا لیکن ناکام ہوگیا۔اب میں گھانا میں اپنا کاروبار چلاتا ہوں اگرچہ اس مقام پر پہنچنے کیلیے میں نے کچھ ضرور مدد لی۔

میں ایک باصلاحیت فٹبالر تھا۔میں آکرا میں ڈیلاس ٹیکسس کی ٹیم میں تھا اور2013 میں ہم ٹورنامنٹ میں شرکت کیلیے ناروے بھی گئے۔ میں نے یورپ میں قیام کیا اور پیشہ ور فٹبالر بننے کیلیے ڈنمارک گیا۔ لیکن وہاں مجھے گرفتار کرلیا گیا کیوں میرا ویزا ختم ہوچکا تھا۔ میں نے پناہ کی درخواست دی لیکن کامیابی نہ ملی۔

میں نے یورپ میں پیشہ ور فٹبالر بننے کا خواب نہیں چھوڑا اور میں جرمنی چلا گیا،وہاں جاکر میں نے پناہ کی درخواست دی۔ میں فٹبال کلب تلاش کرتا رہا جن سے میرا معاہدہ ہوجائے لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا۔ آخرکار مجھے ایک ریسٹورنٹ میں نوکری ملی اور میں نے جرمن زبان سیکھی۔ مجھے احساس ہوا کہ بغیر زبان جانے اپنے ارد گرد موجود لوگوں سے بات کرنا کتنا مشکل ہے۔میری پناہ کی درخواست ایک بار پھر مسترد کردی گئی ۔ گھٹنے کی چوٹ سے مجھے پتہ چل گیا کہ میں اب مزید فٹبال نہیں کھیل سکتا۔

اس لنک سے ایک یوٹیوب ویڈیو کھل جائے گی۔یہ بات ملحوظ خاطر رکھیں کہ اس ویب سائٹ پر آپ کی معلومات کے تحفظ کے قوانین کا اطلاق ہوتا ہے۔

تصدیق کریں

میں گھانا واپس چلا گیا،حالانکہ میرے پاس نہ کوئی سامان تھا نہ ہی کوئی امکان۔ گھانین-جرمن سینٹر فار امپلائمنٹ، مائیگریشن اینڈ ری اینٹی گریشن نے زندگی دوبارہ شروع کرنے میں میری مدد کی۔ مشاورتی ٹیم نے مجھےکرائے پر اپارٹمنٹ لیکر دیا اور نئے کاروبار کے کورس میں شامل کرایا۔میں نے وہاں بہت سیکھا اور اس علم کے ذریعے میں بیکری کھولنے کے قابل ہوا۔ میں تازہ جوس بھی فروخت کرتا ہوں۔ میں بہت خوش ہوں کیونکہ میں خود سے پیسے کمارہا ہوں۔اتنی مدد کے ساتھ اپنا کاروبار کھڑا کرنا آسان کام تھا۔ اب میں اپنے ملک کا سب سے بہترین بیکری والا بننا چاہتا ہوں۔

Stand: 06/2020

اپنی بیکری کا مطلب گھانا میں جرمنی سے بہتر زندگی ہے۔
Faida, Ghana