Skip to main content
مینیو

میرا خواب افریقی فیشن کا ارتقا

Ein Mann sitzt an einer Nähmaschine
عثمان کام پر

میرا خواب افریقی فیشن کا ارتقا

میرا نام عثمان ہے اور میں ڈاکار سے آیا ہوں۔میں نے2006 میں سینیگال سے جرمنی کا سفر کیا۔اُس وقت میں سلائی کی دکان کا مالک تھاجہاں 15 ملازمین کام کرتے تھے۔ حقیقت میں میں جرمنی جاکر سامان خریدنا چاہتا تھا لیکن پھر میں نے وہاں رکنے کا فیصلہ کیا کیونکہ مجھے لگا کہ یورپ میں چیزیں آسان ہوں گی۔ مجھے لگا کہ یہاں لوگوں کو اپنے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے مواقع ہوں گے، گھربنانے، گاڑیاں خریدنے، دیگر الفاظ میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک اچھی زندگی جینے کے۔لیکن جلد ہی مجھے اندازہ ہوگیا کہ میں وہاں زندگی بنانے کیلیے اچھی طرح تیار نہیں ہوں۔

کام کے اجازت نامے کے بغیرچیزیں انتہائی مشکل تھیں کیونکہ میں پیسے نہیں کما سکتا تھا۔مجھے وہ علاقہ چھوڑنے کی بھی اجازت نہ تھی جہاں میں رہائش پذیر تھا۔آخر کار مجھے یہ احساس ہوگیا کہ جرمنی میں میرا کوئی مستقبل نہیں ہے۔

Ein Mann steht neben zwei Schaufensterpuppen, die bunte Gewänder tragen.
نئے ڈیزائن: عثمان کی دکان کے تیار کردہ لباس

دستکاری کے ہنر کو بہتر بنانا

میں نے سوچا کہ میں کس طرح سینیگال میں ایک نئی شروعات کرسکتا ہوں۔ میں نے دیکھا تھا کہ جرمن شہری اچھی تربیت کے باعث کام میں بہت بہتر ہوتے ہیں تو میں اِن سے سیکھنا چاہتا تھا۔ میں اپنے دستکاری کے ہنر کو مزید بہتر بنانا چاہتا تھا،لباسوں کو نئی شکل دینا اور افریقی فیشن کے شعبے میں انقلاب لانا چاہتا تھا۔

میں2014 میں گھر واپس آگیا۔یقینی طور پر میں جرمنی چھوڑتے ہوئے افسردہ تھا لیکن ساتھ ہی میں پرعزم اور پراعتماد بھی تھا۔ جرمنی میں گزارے وقت نے چیزوں کو دیکھنے کے نظریے کو وسعت دی۔ میں نے بہت کچھ سیکھا جیسے کہ انگریزی اور جرمن لیکن ساتھ ہی معاشرتی نظم و ضبط بھی۔

ابتدامیں مجھے سینیگال میں مشکلات پیش آئیں کیونکہ 2دنیاؤں کے درمیان منتقلی بہت مشکل تھی۔لوگ میری جانب دیکھ کر کہتے تھے کہ میں ناکام ہوں اور مجھ میں حوصلہ ہی نہیں۔ میں نے اُنہیں بتایا کہ یورپ میں سب اتنا آسان نہیں،جتنا وہ سمجھتے ہیں۔

Ein Mann steht auf dem Bürgersteig vor einem Ladenlokal.
عثمان اپنی سلائی مشین کے سامنے بیٹھے ہیں

نئے کاروبار کی تربیت

میں ابتدا میں مشکلات میں گھرا ہوا تھا لیکن میرے گھر والوں اور دوستوں نے میری بہت مدد کی۔واپسی کے بعد ابتدائی چند ماہ چھوٹے بھائی کی سلائی کی دکان میں کام کرتے ہوئے گزرے۔ جس کے بعد میں نے اپنا کاروبار کرنےکا سوچنا شروع کیا۔

ایک دن میرے دوست نے مجھے اے این پی ای جے نوجوان افراد کیلیے روزگار کے ادارہ کے بارے میں بتایا۔ میں نے ادارے سے رابطہ کیا جنہوں نے مجھے سینگالیز -  جرمن سینٹر فار جابز، مائیگریشن اینڈ ری اینٹی گریشن  بھجوایا۔

ٹیم نے میری کافی مدد کی۔ میں نے سیکھا کہ اپنا کاروبار کیسے چلاتے ہیں۔ کاروبار کا منصوبہ کیسے تیار کرتے ہیں اور خود مختار بننے کیساتھ کیسے خطرات اور مواقع آتے ہیں۔"نئے مواقعوں کی جانب واپسی" منصوبے کی جانب سے حاصل کردہ فنڈنگ نے مجھے اس قابل بنایا کہ میں اپنے کاروبار کیلیے چیزیں خرید سکوں، جیسے کہ سلائی مشین اور کپڑا۔ میں نے موٹرسائیل بھی خریدی تاکہ مجھے سامان پہنچانے میں آسانی ہو۔

Ein Mann sitzt an einer Nähmaschine. Ein anderer steht daneben und erklärt ihm etwas.
پھلتا پھولتا کاروبار:عثمان اپنے ایک ملازم کے ساتھ

اب میرے تین ملازم اور ایک شاگرد ہے۔ہم بہت کام کرتے ہیں خاص طور پر تہواروں میں جیسے کہ عید الضحیٰ (اسلامی تہوار) اور کرسمس۔چیزیں آگے بڑھ رہی ہیں۔ میرا اپنا چلتا ہوا کاروبار ہے، جس کا مطلب ہے کہ میں اپنے ملازمین اور چیزیں فراہم کرنے والوں کو رقم ادا کرسکتا ہوں۔ میرے ساتھ کام کرنے والے میرا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔ میں سینیگال میں ہی رہتے ہوئے اپنے کاروبار کو چلانا چاہتا ہوں۔ مستقبل میں شاید میں ایک اوردکان قائم کروں اور وہاں"سینیگال میں تیار کردہ" کپڑے فروخت کروں۔

تاوقتیکہ: 04/2021

یہاں مدد اور مشاورت کے لیے بیان کردہ مواقع"نئے مواقعوں کی جانب واپسی"منصوبے کا حصہ ہیں۔

مزید جانیں >
میں سینیگال میں ہی رہنا اور کاروبارکو چلانا چاہتا ہوں اوراس میں جدت لانا چاہتا ہوں۔
عثمان