Skip to main content
مینیو

نئے کاروبار شروع کرنے سے متعلق رہنمائی

Eine Frau blickt in die Kamera.
زاہدہ عمران نے تربیتی کورس میں کافی نئی معلومات حاصل کیں۔

نئے کاروبار شروع کرنے سے متعلق رہنمائی

زاہدہ عمران جرمنی میں 5 سال گزار کر وطن واپس لوٹی ہیں۔ وہ کپڑوں کا آن لائن اسٹور (دکان) کھولنا چاہتی تھی لیکن یہ کیسے کرنا ہے اس حوالے سے بے یقینی کا شکار تھیں۔ اُنہیں کاروبار چلانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ پاکستانی – جرمن فیسلیٹیشن اینڈ ری انٹی گریشن سینٹر (پی جی ایف آر سی) نے اُنہیں کاروباری تربیت کے کورس میں شامل ہونے کی دعوت دی۔

زاہدہ کہتی ہیں"جب میرا فون پر رابطہ ہوا تو میں نے مشیر سے سوال کیا کہ تربیت میں کیا سکھایا جائے گا؟ انہوں نے مجھے بتایا کہ اس میں بنیادی نکات ہوں گے۔ جس سے مراد ہے کہ شرکا کو کامیابی کے ساتھ کاروبار کیسے شروع کرتے اور چلاتے ہیں، اس حوالے سے رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ یہ سن کر مجھے انتہائی خوشی ہوئی اور میں نے فوری ہاں کردی۔"

Zwei Frauen und zwei Männer sitzen an einem Tisch und erarbeiten etwas auf einem Plakat.
کاروباری تربیتی کورس میں شرکا گروہی مشق کا مزہ لے رہے ہیں۔

زاہدہ اور دیگر 9 خواتین نے تربیتی کورس میں حصہ لیا۔ پی جی ایف آر سی اس کے ذریعے واپس لوٹنے والوں اور دیگر مقامی افراد کو خود مختار بنانا چاہتا ہے۔ یہ "نئے مواقعوں کی جانب واپسی" منصوبے کا حصہ ہے جس کو وفاقی وزارت برائے اقتصادی تعاون اور ترقی (بی ایم زیڈ) کی جانب سے چلایا جارہا ہے۔ اس وقت یہ پروگرام 13 ممالک میں چل رہا ہے۔ اس کا مقصد واپس لوٹنے والے تارکین وطن اور مقامی افراد کیلیے سماجی و اقتصادی مواقع پیدا کرنا ہے۔ پاکستان میں اس پر عمل Deutsche Gesellschaft für Internationale Zusammenarbeit (GIZ) GmbH وفاقی وزارت برائے سمندر پار پاکستانی کے ساتھ کرتا ہے، اس میں انسانی وسائل کی ترقی (ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ) بطور سیاسی شراکت دار اور اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن(او پی ایف) بطور عملی شراکت دار شامل ہے۔

Mehrere Männer stehen um eine Tafel herum und unterhalten sich.
پی جی ایف آر سی کی تربیت میں شرکا

انٹرایکٹیو(باہمی/ملکر)تربیت کیس اسٹڈیز کے ساتھ

جدید کاروباری تربیت کا کورس پی جی ایف آر سی کے 2 مشیران کی جانب سے پڑھایا جاتا ہے۔ اس کورس اس طرح ترتیب دیا گیا کہ اس میں ایک دوسرے سے کھل کر گفتگو ہو،اس میں شرکا گروہی شکل میں کیس اسٹڈیز پر کام کرتے ہیں۔ کورس کے اختتام پر زاہدہ عمران بہت زیادہ مطمئن تھیں: "میں اپنا کاروبار شروع کرنے کے حوالے سے اندیشوں کا شکار رہتی تھی لیکن اس کورس نے مجھے اعتماد دیا۔ اس کورس نے کاروبارکے بنیادی طریقوں کو سمجھنے میں میری مدد کی اور سب سے بڑھ کراس نے مجھے سکھایا کہ صارف سے رشتہ کیسے قائم کرتے ہیں۔ اور اب میں اپنے مستقبل کے حوالے سے پُرامید ہوں!"

ایک اور شریک محمد رحیم جو کہ جرمنی آنے سے قبل پاکستان کی ایک فیکٹری میں بطور مارکیٹنگ منیجر کام کرتے تھے۔ وہ پاکستان اس لیے واپس آئے کیونکہ اُنہیں وہاں اپنا مستقبل نظر نہیں آرہا تھا۔ پاکستان واپس آنے کے بعد وہ بے یقینی کا شکار تھے کہ اُنہیں کس طرح شروعات کرنی چاہیے۔ اب وہ ماربل کے کاروبار میں داخل ہونے کا سوچ رہے ہیں اور تربیتی کورس میں شمولیت کے بعد خود کو بہتر طور پر تیار محسوس کررہے ہیں۔ "میں نے کافی حد تک تربیت مکمل کرلی ہے۔ اس نے مجھے پُرامید رہنے کی ہمت دی ہے۔"

محمد اشفاق بھی جرمنی سے واپس لوٹے ہیں اوراسوقت مویشیوں کا کام کررہے ہیں اور وہ اِن کا باڑا(فارم) کھولنے کا سوچ رہے ہیں۔"میں نے اس سے پہلے والے اپنے کاروبار میں کبھی منصوبہ بندی کی نہ ہی سوچا۔اس کورس نے مجھے سکھایا کہ کاروباری منصوبہ کیسے تیار کرتے ہیں۔ اب میں اپنی کمپنی کیلیے اس طرح کا خیال تیار کروں اور مجھے اُمید ہے کہ یہ کامیابی لائے گا۔"

پی جی ایف آر سی مستقبل میں بھی اس طرح کی تربیت کی پیشکش کو جاری رکھے گا۔ برائے مہربانی معلومات کیلیے مرکز سے بذریعہ ای میل رابطہ کریں:
reintegration-pakistan@giz.de

As of: 07/2021

میں بے یقینی کا شکار رہتی تھی لیکن اس تربیتی کورس نے مجھے اعتماد دیا۔
زاہدہ عمران

مزید بلاگ پوسٹس