Skip to main content
مینیو

کپڑے کی ذاتی دکان کے ساتھ نئی زندگی کا آغاز

عدنان نے پاکستان میں کپڑوں کی ذاتی دکان کھولی ہے۔

کپڑے کی ذاتی دکان کے ساتھ نئی زندگی کا آغاز

میرا نام عدنان ہے اور میری عمر36 برس ہے۔ میرا تعلق گجرات سے ہے جو پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ایک شہر ہے۔ میں پہلے کپڑوں کی دکان میں کام کیا کرتا تھا لیکن میں نے سنہ 2010 میں نے بہتر زندگی کی تلاش میں یونان جانے کا فیصلہ کیا۔ مجھے اس سفر کیلیے قرض لینا پڑا۔ مجھے یونان میں کوئی خاص کام نہیں ملا۔ میں قرض کی ادائیگی کیلیے بمشکل ہی کما پا رہا تھا۔

سنہ 2014 کے اختتام پر میں اس امید پر جرمنی چلا گیا کہ وہاں دوبارہ نئی شروعات کر سکوں گا۔ اس کے بعد میں نے 2019 میں اپنی اہلیہ کے پاس پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ جرمنی میں امیگریشن دفتر نے مجھے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) بھجوایا۔ آئی او ایم نے میرے سفر کا بندوبست کیا اورآر ای اے جی/ جی اے آر پی(دا ری انٹی گریشن اینڈ امیگریشن پروگرام فار ازائلم – سیکرز ان جرمنی / گورنمنٹ اسسٹڈ ری پیٹریشن پروگرام) کے ذریعے مجھے مالی مدد فراہم کی گئی۔

پاکستان واپس آکرمیں نے خواتین کے کپڑے فروخت کرنے کی دکان بنائی، اور اپنی ساری جمع پونجی اس پر لگا دی۔ گجرات میں کرایہ بہت زیادہ تھا، میں نے ایک قریبی شہر جلال پور جٹاں میں دکان کھولنے کا فیصلہ کیا۔ دکان کھولتے وقت میرا ماضی کے کام تجربہ بہت کام آیا۔

جامع تربیت

ابتدا میں سب کچھ بہت اچھا رہا لیکن پھر کورونا کی وبا نے آگھیرا۔ پاکستان کی حکومت نے دیگر اقدامات کے ساتھ لاک ڈاؤن بھی نافذ کردیا۔ اس نے میرے کاروبار پر کافی گہرا اثرڈالا۔  خوش قسمتی سے میرے دوست نے مجھے لاہور میں پاکستانی جرمن فیسیلیٹیشن اینڈ ری انٹی گریشن سینٹر (پی جی ایف آر سی ) کے بارے میں بتایا۔

میری اہلیہ اور میں نے لاہورمیں قائم مرکز میں مشیر سے ملاقات کی۔ انہوں نے ہماری تفصیلات لیں اور ہمارا اندراج بزنس ڈویلپمنٹ ٹریننگ (کاروباری ترقی کی تربیت) کورس میں کیا۔ تربیتی کورس بہت زیادہ معلوماتی تھا اور اب میری اہلیہ مارکیٹنگ میں میری مدد کرتی ہیں۔ میں نے جو سیکھا اُس کا استعمال اپنے کاروبار میں کر رہا ہوں۔ سب سے اہم یہ کہ میں نے ادھار دینا بند کردیا۔

تربیتی کورس نے مجھے یہ بھی سکھایا کہ حساب کتاب کتنا اہم ہے – جب سے میں نے تربیتی کورس کیا اس کے بعد سے میں کاروباری کھاتوں کا مکمل حساب کتاب رکھتا ہوں۔ ہم نے یہ بھی سیکھا کہ گاہک کی دیکھ بھال بہت ضروری ہے۔ میں نے دونوں کے درمیان اعتماد کو قائم کرنے کیلیے پہلے سے بھی زیادہ محنت کی۔ یہاں تک کہ میں نے کسٹمر سروس(صارفین کیلیے خدمات) کو بہتر بنانے کیلیے ڈلیوری سروس بھی متعارف کرائی۔ اِن چیزوں نے میرے کاروبار پر کافی اچھا اثر ڈالا۔

منتظم نے اپنے کاروبار کو وسعت دی تاکہ اس میں بغیر کڑھائی والے کپڑے شامل کریں۔

دکان 

تربیتی کورس سے کاروبار کو بڑھانے کے حوالے سے میرے ذہن میں کئی خیالات آئے۔  قسمت سے میری دکان کے بالکل سامنے والی ایک دکان خالی ہوگئی اور میں نے اسے کرائے پر لے لیا۔ میں نے سیکھا تھا کہ میرے شعبے میں مسابقت کا اندازہ کیسے لگایا جائے اور مارکیٹ میں خلا کو کیسے پہچانا جائے۔ میں نے دیکھا کہ میرے علاقے میں آپ صرف سلے سلائے کپڑے خرید سکتے ہیں۔ تو میں نے مصنوعات کو بڑھایا اور اس میں بغیر کڑھائی والے مردانہ کپڑے شامل کیے۔ اب ہماری واحد دکان ہے جو بغیر سلے اور بنا کڑھائی والے کپڑے فروخت کرتی ہے، انہی سے پاکستان میں روایتی ملبوسات تیار کیے جاتے ہیں۔

ربیتی کورس کے بعد میری اہلیہ نے واٹس ایپ پر ہماری منصوعات کی مارکیٹنگ (تشہیر)  شروع کردی۔ ہم نے مختلف چیزوں پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا: میری اہلیہ ہماری خواتین خریداروں سے رابطے میں رہتی ہے جبکہ میں مردوں سے۔ ہم دیگر منصوبوں پر بھی کام کررہے ہیں، جیسے کہ ٹی وی اشتہار اوردیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تشہیر۔

موجاز فاؤنڈیشن کی جانب سے مدد

پی جی ایف آر سی میں مشاورت کے دوران مجھے شراکت دار ادارے موجاز فاؤنڈیشن کے بارے میں پتہ چلا۔  موجاز فاؤنڈیشن کے نمائندے نے مجھ سے رابطہ کیا اور بزنس ڈویلپمنٹ (کاروباری ترقی) کے چار روزہ آن لائن ٹریننگ کورس کا اہتمام کیا۔ اپریل 2021 میں انہوں  نے سرمایہ کاری کا منصوبہ تیار کرنے میں ہماری مدد کی۔ تربیتی کورس نے مجھے سکھایا تھا کہ کاروبار کیلیے تجزیہ کیسے تیار کیا جاتا ہے۔ اس نے نئے مواقعوں کی تلاش میں میری مدد کی۔ فاؤنڈیشن نے کاروبار میں امداد کے ذریعے بھی مدد کی۔ انہوں نے مجھے کپڑے فراہم کیے کیونکہ کورونا کی وجہ سے میرے پاس پیسے نہیں تھے۔  

پی جی ایف آر سی سے ملنےوالی مدد اور مشاورت نے مجھے اور میری اہلیہ کو اس قابل بنایا کہ ہم کورونا کی وبا کے دوران بھی اپنے کاروبار کو کامیابی سے چلاسکیں اور اس کو بڑھاسکیں۔ مجھے یقین ہے کہ میں آنے والے تمام چیلنجز سے نمٹ سکوں گا۔
تاریخ

08-2021

پی جی ایف آر سی سے ملنےوالی مدد اور مشاورت نے مجھے اور میری اہلیہ کو اس قابل بنایا کہ ہم کورونا کی وبا کے دوران بھی اپنے کاروبار کو کامیابی سے چلاسکیں اور اس کو بڑھاسکیں۔
عدنان

ملکوں کے تجربات