Skip to main content
مینیو

غیرمحفوظ طبقات کے لیے نئے مواقع

عائشہ مالی طور پر خودمختار بننا چاہتی ہیں اور اپنے کیفے کا نام اپنے والدین کے نام پر رکھنا چاہتی ہیں۔

غیرمحفوظ طبقات کے لیے نئے مواقع

پہلی بار پی جی ایف آر سی نے غیر محفوظ گروہوں کے لیے اہدافی منصوبے شروع کیے۔ ان منصوبوں میں تربیت بھی شامل ہے جو ابھرتے ہوئے کاروباری افراد کو خودمختار بننے کی تیاری کراتی ہے۔ مثال کے طور پر فن طباخی کی تربیت جو کہ کھانا پکانے سے بہت آگے ہے۔

عائشہ اپنے ہاتھوں میں اپنی سند اٹھا رکھی ہے۔ وہ فخر محسوس کررہی ہیں کیونکہ انہوں نے کامیابی کے ساتھ فن طباخی کا تربیتی پروگرام مکمل کرلیا۔ 21 دیگر شرکا کے ساتھ انہوں نے 30 دن صرف کھانا بنانا ہی نہیں سیکھا بلکہ انہوں ہر وہ چیز سیکھی جس کی ضرورت اُنہیں اپنا کاروبار شروع کرنے کیلیے تھی۔

یہاں تک کا سفر بہت طویل تھا: ’دوسری بار درخواست دینے کے بعد میں بہت خوش ہوں کہ اس نے کام کیا اور میری درخواست منظور ہوئی۔ اس وقت میرا انحصار اپنی بہن اور اُس کے شوہر پر ہے کیونکہ میرے والدین نہیں ہیں اور میں شادی شدہ بھی نہیں ہوں۔ پاکستان میں جب خواتین تنہا ہوں تو اُن کی زندگی بہت مشکل اور اُن کے پاس مواقع انتہائی کم ہوتے ہیں ۔ تاہم میرا ماننا ہے کہ خواتین کو اپنی اہمیت خود پہچاننے کی ضرورت ہے۔ خواتین کو اپنے حالات بہتر بنانے کیلیے خود پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم خواتین صحیح محنت کریں تو ہم بہت زیادہ حاصل کرسکتے ہیں۔‘

عائشہ نے فیصل آباد میں تربیتی کورس میں شامل ہونے کیلیے ملتان سے تقریبا ڈھائی سو کلو میٹرتک کا سفر طے کیا۔ "میرے خیال میں یہ تربیت انتہائی شاندار قدم ہے،خاص طور پر یہ میری جیسی خواتین کو مالی طور پر خودمختار بناتی ہے۔ میں اپنا کاروبار شروع کرنے کیلیے مزید انتظار نہیں کرسکتی۔ یہاں تک کہ میں نے اپنے کاروبار کا نام اور لوگو بھی تیار کرلیا ہے۔ میں اس کو اپنے والدین کے نام پر آر پی کیفے کا نام دینا چاہوں گی۔

خواتین اور غیرمحفوظ طبقات کی مدد

فیصل آباد میں فراہم کی گئی تربیت کا خصوصی ہدف وہ طبقات ہیں جو اکثر چیلنجز کا سامنا کرتے ہیں۔ پاکستانی جرمن فیسلیٹیشن اینڈ ری انٹی گریشن سینٹر (پی جی ایف آر سی) کے سربراہ ڈاکٹر منصور زیب اس منصوبے کے پیچھے کے خیال کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: ’وفاقی وزارت برائے اقتصادی تعاون اور ترقی کے پروگرام کا حصہ ہوتے ہوئے ہم سے یہ کہا گیا کہ غیر محفوظ طبقات کے لیے مدد کو بڑھایا جائے۔‘ غیرمحفوظ طبقات میں اقلیت، عمر رسیدہ افراد، کم عمر، خصوصی افراد، تارکین وطن، واپس لوٹنے والے، خواتین اور خواجہ سرا شامل ہیں۔

کھانا پکانے کی تربیت کے ساتھ ساتھ پی جی ایف آر سی ڈیجیٹل ٹولز اور الیکٹرانک بینکنگ کے حوالے سے تکنیکی کورس بھی کراتا ہے اور ساتھ ساتھ اُن درزیوں کے لیے سلائی کی تعلیم جو گھر سے کام کرتے ہیں۔

30 روز میں کھانا پکانے سے بڑھ کر: کلینری آرٹ کی تربیتی کورس نے شرکا کو سکھایا کہ وہ کس طرح خود مختار بن سکتے ہیں۔

کیٹرنگ کے شعبے میں خود مختاری کا راستہ

پی جی ایف آر سی کی جانب سے مقامی کالجز اور ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز کے تعاون سے جو پروگرامز کرائے جاتے ہیں اُس میں سے ایک کلینری آرٹ (فن طباخی) کی تربیت دی جاتی ہے۔ اس کا مقصد صرف شرکا کو کھانا پکانا سکھانا نہیں بلکہ اُنہیں خود مختار بنانے کی مکمل تیاری کرانا ہے۔

فیصل آباد میں مقامی شراکت دار انسٹیٹیوٹ آف ٹورازم اینڈ ہوٹل منیجمنٹ (آئی ٹی ایچ ایم) ہے۔ آئی ٹی ایچ ایم ملک کا واحد سرکاری سطح پر تسلیم شدہ ادارہ ہے جو فن طباخی، سفر، سیاحت اور ہوٹل کے انتظام کار کی تربیت فراہم کرتا ہے۔ پی جی ایف آر کی مشیر اور صنفی مساوات کی رابطہ کار نگہت عزیز کے مطابق شرکا کو شروعات کیلیے ضروری ٹیکنالوجی اور آلات فراہم کیے جاتے ہیں۔ کاروباری ترقی اور مارکیٹ کی اضافی تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے۔

وقاص’جو مدد مجھے فراہم کی گئی اُس کیلیے میں بہت شکر گزار ہوں۔‘

اپنا کیفے کھولنے کے منتظر

فیصل آباد میں کلینری آرٹ کی تربیت کہ 22 شرکا میں سے ایک وقاص ہیں۔ 40 سالہ وقاص جرمنی میں 5سال گزارنے اور پناہ کی درخواست 2 بار مسترد ہونے کے بعد پاکستان واپس آگئے ہیں۔

وقاص کو یہ کورس انتہائی جامع لگا:’آئی ٹی ایچ ایم میں ہم نے کھانا پکانے سے بہت زیادہ سیکھا۔ ہم نے سیکھا کہ کاروبار کیسے کامیابی کے ساتھ چلاتے ہیں اور صارفین کے ساتھ اچھے سے کیسے پیش آتے ہیں۔ اساتذہ نے ہمیں یہ بھی سکھایا کہ کاروبار کی حکمت عملی کیسے بناتے ہیں اور مختلف موسموں کے حوالے سے کیسے تیاری کرتے ہیں۔‘

تربیتی کورس کے اختتام پر تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں تمام شرکا کو اسناد دی گئیں۔ وقاص کہتے ہیں کہ میں مدد کیلیے انتہائی شکر گزار ہوں۔ مجھے ہمیشہ کھانا پکانے کا شوق تھا اور مجھے یہاں زیادہ تجربہ حاصل ہوا۔ انہوں نے جرمنی کے ایک ریستوران میں پہلے ہی پیزا تیار کرنے والے کے طور پر کام کیا ہوا ہے۔ میں بہت خوش ہوں۔ کلینری آرٹ کی تربیت حاصل کرنے والے تمام شرکا کو نہ صرف شروعات کیلیے پیکج دیے گئے جس میں مختلف چاقو اور ایپرن کیساتھ ساتھ اُنہیں اپنا فوڈ ٹرک بھی دیا گیا۔

فضیلت اپنی اسنیک وین کی منتظر ہیں جوکہ اُنہیں مالی طور پر خود مختار کردے گی۔

’میں اپنے لیے کام کرنا چاہتی ہوں‘

فضیلت کو بھی ایک نئے موقع کی ضرورت ہے۔ 40 سالہ فضیلت جو 4 بچوں کی ماں ہیں وہ شاہ کوٹ کے قریب ایک گاوں سے آئی ہیں جوکہ فیصل آباد سے تقریبا 50 کلو میٹر دور ہے۔

فضیلت کا کہنا ہے کہ" میں اور میرے خاوند بچوں کی پڑھائی کیلیے چند سال قبل فیصل آباد منتقل ہوگئے ہیں اور اُس کے بعد سے مجھے بھی کام کرنا پڑتا ہے تاکہ ہم یہاں گزر بسر کرسکیں۔ جب سے ہم یہاں منتقل ہوئے ہیں میں نےلوگوں کے گھر میں صفائی کا کام کیا اورکبھی کھانا بھی بنا کردیا۔ وہ اپنا خود کا فوڈ ٹرک چلانا اور مالی طور پر خودمختار بنانا چاہتی ہیں۔ کیونکہ میں اپنے کیلیے کام کرنا چاہتی ہوں دوسروں کیلیے نہیں۔

تاوقتیک 07/2023

خواتین کو اپنی حیثیت خود پہچاننے کی ضرورت ہے۔
شریک عائشہ کا کہنا ہے کہ

ملکوں کے تجربات