Skip to main content
مینیو

دیہات کی کاروباری خواتین کے لیے تربیت: ’میں اپنی پہلی ویب سائٹ پر کام کر رہی ہوں‘

مسمل کا ہاتھ سے تیار کردہ کپڑوں کا اپنا برانڈ ہے۔

دیہات کی کاروباری خواتین کے لیے تربیت: ’میں اپنی پہلی ویب سائٹ پر کام کر رہی ہوں‘

انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ٹولز کاروباری خواتین کو بہت مواقع فراہم کرتے ہیں۔ تاہم پاکستان کے صوبوں میں اکثر ان کے پاس ضروری معلومات اور رسائی کی کمی ہوتی ہے۔ پی جی ایف آر کی تربیت اُنہیں سکھاتی ہے کہ وہ اپنے کاروبار کو وسعت دینے اور زیادہ سے زیادہ صارفین کو متوجہ کرنے کے لیے کون سے ٹولز استعمال کرسکتے ہیں اور کیسے کرسکتے ہیں۔

پاکستان کے شہر ملتان کے دل (مرکز) میں قائم ہوٹل ون کے ایک شاندار کانفرنس روم میں مختلف عمروں والی 22 خواتین بیٹھی ہیں۔ یہ تمام خواتین ڈیجیٹل ٹولز اور ای بینکنگ پر 5 روزہ تربیتی سیمینار میں شرکت کے لیے ملک کے مختلف دیہی علاقوں سے یہاں آئی ہیں۔ زیادہ تر جنوبی پنجاب کے دیہی علاقوں سے۔ اس تربیتی پروگرام کا انعقاد پاکستانی جرمن فیسیلیٹیشن اینڈ ری انٹی گریشن سینٹر (پی جی ایف آر سی) نے کیا ہے جو کہ اُن کے متعدد مفت اقدامات میں سے ایک ہے اور اس کا مقصد ملک بھر میں لوگوں کو تعلیم دینا اور اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہے۔

خوف دور کرنے کے لیے خواتین اور مردوں کو الگ الگ تربیت فراہم کی جاتی ہے تاکہ خواتین کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔ اس سب سے قبل پی جی ایف آر سی کی ٹیم نے ان سب کے انٹرویو لیے ہیں ۔ تربیت حاصل کرنے والی خواتین یا تو نیا کاروبار شروع کرنے والی ہیں یا اپنا کاروبار شروع کرچکی ہیں۔ اس تربیتی گروپ میں وہ خواتین ہیں جو اپنے علاقوں اور دیہاتوں میں گارمنٹس، سلائی، کڑھائی اور دستکاری کے چھوٹے کاروبار کررہی ہیں۔

آن لائن نئے صارفین کی تلاش

سلمیٰ 40 کی دہائی میں ہیں اور 4 بچوں کی ماں ہیں وہ اس 5 روزہ تربیت میں شرکت کے لیے 100 کلو میٹر سے زائد کا سفر طے کرکے بہاولپور سے ملتان آئی ہیں۔ انہوں نے چند سال قبل لاہور سے ڈریس میکنگ (کپڑوں کی تیاری) میں ڈپلومہ کیا تھا۔ اُس وقت سے وہ فیشن ڈیزائننگ کے شعبے میں کام کررہی ہیں: "چند سال قبل میں نے اپنی گارمنٹس (کپڑوں) کی دکان کھولی۔ میں نے کپڑوں اور ڈیزائن کی نمائش کے لیے ملک بھر میں سفر کیا۔ میں نے نئے آرڈر حاصل کرنے اور صارفین بنانے کی کوشش کی۔ میرے بچے بڑے ہورہے ہیں اور اُنہیں میرا زیادہ وقت اور توجہ چاہیے اور یہ بہت مشکل ہوتا جارہا تھا۔ میں اسلام آباد اور لاہور جیسے شہروں کی بڑی مارکیٹس میں شاذونادر ہی جاپاتی ہوں۔ یہ ایک وجہ ہے جس لیے میں تربیت حاصل کرنا چاہتی تھی۔ اس طرح میں یہ سیکھ سکتی ہوں کہ کاروبار کو کیسے وسعت دے سکتے ہیں گھر پر رہ کر بھی۔ کیونکہ اس تربیت میں، میں نے سیکھا کہ انٹرنیٹ کے ذریعے ملک بھر کے صارفین تک کیسے پہنچا جاسکتا ہے۔

یہ تربیتی کورس 5 دن پر محیط تھا اور اس کو انڈسٹری کو ماہرین کی جانب سے کرایا گیا۔ مضامین میں آن لائن اکاونٹس بنانے کا تعارف، مختلف پروگرام کا استعمال اور اسمارٹ فون کے کیمرے کے ذریعے تصاویر اور ڈیزائن کی بہتری شامل تھے۔ دیگر مضامین میں: کاروبار کے لیے فیس بک کا صفحہ کیسے بناتے ہیں؟ واٹس اپ کے ذریعے مارکیٹنگ کیسے کی جاتی ہے؟ مائیکرو فائنانس کیا ہے؟ یہ بنیادی معلومات اور مہارتیں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے کاروبار کی کامیاب مارکیٹنگ کے لیے ضروری ہیں۔

سلمیٰ کا کہنا ہے کہ "اگر آپ کام کرنے کے لیے تیار ہیں تو آپ تربیتی پروگرام سے بہت فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔

 میرا ماننا ہے کہ یہ تربیتی پروگرام صرف فائدہ مند ہی نہیں بلکہ بہت بیش قیمت بھی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر آپ خود پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں تو پھر آپ بہت فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ کاش اس طرح کے مزید پروگرام بھی ہوتے۔ اس طرح کے پروگرام ہمارے لیے بہت مفید ہیں۔ کیونکہ ہم میں سے زیادہ تر کے پاس وسائل بہت کم ہیں۔" تربیت کے علاوہ پی جی ایف آر سی شرکا کو رہائش بھی فراہم کرتا ہے جو تربیتی پروگرام میں شرکت کے لیے دور دراز علاقوں سے آتے ہیں۔

شرکا میں سے زیادہ تر نوجوان ہیں: مسمل صرف 22 سال کی ہیں اور یہ بھی بہاولپور سے ہی آئی ہیں۔ مسمل کی آنٹی نے اُنہیں راضی کیا کہ یہ تربیت اُن کے لیے بالکل صحیح ہے۔" مجھے اُس وقت پتہ چلا جب آنٹی نے واٹس ایپ پر مجھے اس کا بتایا۔ اُنہوں نے زور دیا کہ میں پروگرام میں داخلے کے لیے درخواست دوں۔"

اگرچہ کہ مسمل ابھی طالبعلم ہیں، وہ اپنی والدہ کے ہاتھ سے تیار کپڑوں اور گھر کی سجاوٹ کی اشیا کے چھوٹے سے کاروبار میں ہاتھ بٹاتی ہیں۔ مسمل کی والدہ کئی برسوں سے صارفین کو دستکاری کی خدمات فراہم کررہی ہیں جو کہ صرف زبان کی بنیاد پر اُن سے کام کراتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر محلے اور ارد گرد کے جاننے والے ہیں۔ چند سال قبل مسمل نے کاروبار میں اپنی والدہ کی مدد کرنا شروع کی۔

سلمیٰ سیکھنا چاہتی ہیں کہ کاروبار کو کیسے وسعت دی جائے، بشمول گھر سے کام کرکے بھی۔

اپنے برانڈ کو مشہور بنانا

مسمل کا کہنا ہے کہ ’ایک دن میں نے اپنا ہاتھ سے تیار کردہ کپڑوں کا برانڈ ’تانیہ کلیکشن‘ شروع کیا۔ یہ کسی کے نام پر نہیں تھا بس یہ ایک نام تھا۔ اگرچہ میں نے دستکاری اپنی والدہ سے سیکھی لیکن میں بہاولپور یونیورسٹی سے ٹیکسٹائل سائنس کی تعلیم بھی حاصل کررہی ہوں۔ میں کام کو بڑھانا چاہی ہوں جو میری والدہ نے شروع کیا اور برانڈ کو بنانا چاہتی ہوں جو ہم نے شروع کیا۔‘ اس میں یقینی طور پر میری یونیورسٹی کی ڈگری بھی میری مدد کرے گی۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ جو چیز اہم ہے وہ نیٹ ورکنگ (رابطے بڑھانے) کے ٹولز اور ڈیجیٹل مہارتوں کی اچھی سمجھ ۔

’میرے پاس ملک کے دیگر حصوں سے بھی صارفین ہیں جنہوں نے مجھے ریکمنڈ کیا۔ لیکن اب تک میں اپنے برانڈ کے لیے ویب سائٹ نہیں بناسکی۔ مجھ سے کئی بار یہ پوچھا جاتا ہے کہ میری کوئی ویب سائٹ یا سوشل میڈیا کا صفحہ کیوں نہیں ہے جہاں میں اپنا کام سکھا سکوں۔ ہر بار میرا جواب یہی ہوتا ہے کہ مجھے نہیں پتا کہ یہ کیسے کرتے ہیں۔ تربیت کے بعد سے مجھے اپنی صلاحیتوں پر بہت اعتماد محسوس ہورہا ہے۔ اس وقت میں اپنی پہلی ویب سائٹ پر کام کررہی ہوں۔ چلد ہی میں خواہشمند صارفین کو براہ راست اس پر رجوع کرنے کا کہہ سکوں گی۔‘

07/2023

اس وقت میں اپنی پہلی ویب سائٹ پر کام کر رہی ہوں۔ جلد ہی میں دلچسپی رکھنے والے افراد کو براہ راست اپنا ویب سائٹ ایڈریس دینے کے قابل ہوجاوں گی۔
مسمل

ملکوں کے تجربات