Skip to main content
مینیو

ایک نئے آغاز کے لیے خواتین کی حوصلہ افزائی

ایک نوجوان خاتون کیمرے میں دیکھ رہی ہیں۔
مشیر نگہت عزیز

ایک نئے آغاز کے لیے خواتین کی حوصلہ افزائی

نگہت عزیز پاکستان جرمن فیسیلی ٹیشن اینڈ ری اینٹی گریشن سینٹر(پی جی ایف آر سی) مشیر ہیں اور  ضرورت مند خواتین اور مرد حضرات کی رابطہ کار ہیں۔یہ مرکز کی دیگر شراکت دار تنظیموں کے ساتھ مل کر اُن کی مخصوص ضروریات کے حل کیلیے کام کرتی ہیں۔

حال ہی میں نگہت کے پاس مدد مانگنے کیلیے آنے والی خاتون گزشتہ20برس سے اپنے اہلخانہ کے ساتھ بیرون ملک مقیم تھیں۔"لیکن کورونا کی وبا کے باعث اُن کے خاوند کی نوکری چلی گئی اور وہ سب ایک دم سے بے سہارا ہوگئے۔" خاتون اپنے3بچوں کے ساتھ پاکستان واپس آئیں اور پی جی ایف آر سی سے رابطہ کیا۔ نگہت عزیز نے معاشرے سے واپس جڑنے میں اُن کی مدد کی۔انہوں نے واپس لوٹنے والی خاتون کو ایک ادارے میں بھجوایا جو کہ دیگر چیزوں کے ساتھ نفسیاتی مدد بھی فراہم کرتا ہے۔ پی جی ایف آر سی میں خاتون نے سیکھا کہ سی وی کس طرح لکھتے ہیں اور انٹرویو کیسے دیتے ہیں۔وہ ہاشو فاؤنڈیشن کے ذریعے ایک تربیتی کورس بھی کررہی ہیں کہ کاروبار کس طرح شروع کیا جاتا ہے۔
 

خواتین میز پر آمنے
نگہت عزیز(دائیں) واپس لوٹنے والوں سے بات کررہی ہیں سامنے بیٹھ کر باتیں کررہی ہیں۔

آزادی ایک بڑا چیلنج
 
نگہت عزیز کہتی ہیں"گھر لوٹنے کے بعد معاشرے سے جڑنے کیلیے تعلیم اور تربیت دونوں بہت زیادہ  اہم ہیں۔ پی جی ایف آر سی میں بطور مشیر کام کرنے سے قبل انہوں نے تقریباً 15 سال تک انسانی وسائل کی ترقی اور مستقبل کے حوالے سے مشاورت کا کام کیا ہے۔انہوں نے اسلام آباد کے بڑے اسپتال میں جنسی ہراسانی کے قوانین متعارف کرائے اور تین ہزار سے ملازمین کو تربیت فراہم کی۔نگہت عزیز جانتی ہیں کہ پاکستان میں سماجی اور معاشی طور پر آزاد ہونا خواتین کیلیے بہت بڑا چیلنج ہے۔
 
نگہت کے تجربے کے مطابق واپس لوٹنے والی خواتین کو مدد کی خاص ضرورت ہوتی ہے خصوصی طور پر دماغی صحت کے حوالے سے۔ مشیر کے مطابق خواتین کو پہلے تو اپنے تجربے کو قبول کرنا ہوتا ہے۔اِن میں سے زیادہ تر نے جرمنی یاکسی اور ملک جہاں انہوں نے ہجرت کی ہو،وہاں آباد ہونے میں مشکلات کا سامنا کیا ہوتا ہے۔یہ احساس انتہائی جذباتی ہوسکتا ہے کہ خواتین انتہائی سخت فیصلے کرتی ہیں:"ایک کیس میں، خاتون نے پاکستان میں گھریلو تشدد سے فرار کیلیے جرمنی میں پناہ کی درخواست دی۔ لیکن وہاں زندگی انتہائی مشکل تھی جس پر اُنہیں واپس پاکستان میں اپنے خاوند کے پاس لوٹنا پڑا۔"

خواتین کیلیےواپسی کا انتظام اور معاشرے سے جڑنا بہت بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ نگہت اور اُن کے ساتھی اپنی مخصوص ضروریات اورمانگ پر توجہ دیتے ہیں۔عزیز کہتی ہیں"ہم یقینی بناتے ہیں کہ پاکستان لوٹنے والی خواتین اور کمزور لوگوں کو مؤثر طور پر معاشرے سے جوڑ سکیں۔"
 
نئے کاروبار کی شروعات کے حوالے سے تربیت اور مشاورت
 
پی جی ایف آر سی خواتین کو موزوں خدمات فراہم کرنے کیلیے سماجی تنظیموں اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔ہاشو فاؤنڈیشن کے علاوہ شراکت داروں میں موجاز فاؤنڈیشن بھی شامل ہے جو کہ خواتین کی تعلیم اور تربیت کیلیے کام کرتا ہے۔
 

پی جی ایف آر سی واپس آنے والوں کا رابطہ آل پاکستان ویمن ایسوسی ایشن(اپوا) سے کرواتا ہے جو کہ صحت،تعلیم،خواتین کے حقوق اور جنسی ہراسانی پر کام کرتی ہے یا پھر ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(ڈبلیو سی سی آئی) سے جو کہ خواتین کی مدد کرتی ہے کہ وہ اپنا کاروبار شروع کرسکیں یا پھر اُس کی عملی تربیت(انٹرنشپ)حاصل کرسکیں۔ مزید یہ کہ پی جی ایف آر سی اور روزان میں بھی رابطہ ہے جو کہ تربیت اور اُس کے ساتھ ساتھ ذہنی اورنفسیاتی صحت سے متعلق مشاورت فراہم کرتی ہے۔
 
نگہت اُن خواتین کیلیے بڑی ہمدردی محسوس کرتی ہیں جو پاکستان میں اپنی نئی زندگی شروع کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ "پاکستان میں ایک کام کرنے والی خاتون کی حیثیت سے میں یہ جانتی ہوں کہ خواتین کو روزانہ کی بنیاد پر معاشرے میں موجود جنسی تفریق کی وجہ سے کافی مشکلات جھیلنا پڑتی ہیں۔اگر چہ مراعت یافتہ (اچھے گھر کی)خواتین کیلیے اچھی تعلیم تک رسائی انتہائی مشکل ہے تو پسماندہ خاتون کیلیے تو یہ اس بھی مشکل ہے۔" اور اس کو تبدیل کرنا چاہتی ہیں۔یہی بات اُنہیں  پی جی ایف آر سی اور خواتین کیلیے اپنے کام میں آگے بڑھاتی ہے۔
 

تاوقتیکہ 2021.03 

ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ پاکستان لوٹنے والی خواتین اور کمزور لوگوں کو مؤثر طور پر معاشرے سے جوڑ یں۔
نگہت عزیز