Skip to main content
مینیو

’ایک نئے آغاز کے لیے ہم مواقع فراہم کرتے ہیں‘

Auf dem Bild sieht man die Hände von zwei Personen, die miteinander im Gespräch sind.

’ایک نئے آغاز کے لیے ہم مواقع فراہم کرتے ہیں‘

فون کی گھنٹی مسلسل بج رہی لیکن گھبراہٹ کے کوئی آثار نہیں۔ سلار ایربیل کے جرمن سینٹر فار جابز، مائیگریشن اینڈ ری انٹی گریشن اِن دا کردستان ریجن اِن عراق (جی ایم اے سی) میں ایک مشیر ہیں اور وہ کالز دیکھتی ہیں۔ انہوں نے کورونا وبا کے باعث عائد پابندیوں کی وجہ سے ذاتی رابطے(تعلق) چھوڑ دیے لیکن انہوں نے اور اُن کے ساتھیوں نے مشاورت فراہم کرنے کے سلسلے کو جاری رکھا۔ وہ نوکری کے حصول اور کاروبار کی شروعات میں مدد کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ نفسیاتی مدد کیلیے حوالے بھی فراہم کرتے ہیں۔

سلار کہتی ہیں"بطورمشیر میرے لیے یہ اہم ہے کہ میرے صارفین کو یہ معلوم ہو کہ ہم اُن کی مدد اور مشاورت کیلیے موجود ہیں۔ یہ کوئی معنی نہیں رکھتا کہ وہ کوئی قانونی معاملہ ہو،کاروباری صلاح ہو یا پھر ذاتی مسئلہ۔" مشیر اپنے کام سے بہت پیار کرتی ہیں: "مجھے بہت خوشی محسوس ہوتی ہے کہ جب لوگ ہمارے مشورے پر عمل کرتے ہوئے کاروبار کرتے ہیں۔ یا پھر جب لوٹنے والے مجھے بتاتے ہیں کہ مشاورت اُن کی زندگی میں مثبت تبدیلی لیکر آئی۔"

انفرادی صورتحال پر ردعمل

اُن کو لگتا ہے کہ اُن کا کام بہت ہی مختلف ہے۔" میں نے جس کی بھی مدد کی اُس کا اپنا پس منظر ہوتا ہے۔ ایک وقت تھا جب میں نے پانچ مختلف لوگوں کو مشورے دیے اور یہ پانچوں مختلف ممالک سے واپس آئے تھے اور عراق کے مختلف علاقوں میں رہتے تھے، مختلف زبانیں بولتے تھے اور اُنہیں یکسر مختلف مدد درکار تھی۔ بطور مشیرمیری خواہش ہے کہ ہر لوٹنے والا جی ایم اے سی سے رابطہ کرے، خاص کر واپس آنے سے پہلے یا پھر واپس آنے کے فوری بعد۔ "مجھے بہت اچھا لگے گا اگرہرشخص ہم سے جلد از جلد رابطہ کرنے کا حوصلہ محسوس کرے۔"

سلار نے جرمنی سے لوٹنے والے ایک شخص کی مثال پیش کی۔ پہلی گفتگو میں انہوں نے سینٹر کی جانب سے فراہم کی جانے والی خدمات سے آگاہ کیا۔ ہم نے جلد ہی اپنے شراکت دار ادارے کے ذریعے اُن کیلیے نوکری ڈھونڈ لی۔ اب اُن کی مستقل آمدنی ہے۔" دراصل وہ ریستوران کھولنے کے منصوبے کے ساتھ عراق واپس آئے تھے۔ قانونی مشکلات کی وجہ سے یہ ممکن نہیں تھا۔ سلار اور انہوں نے مل کر کامیابی کیساتھ اُس کا متبادل ڈھونڈ نکالا۔

لوگوں کے ساتھ جڑجانا

مشیر اور جی ایم اے سی کے باقی افراد کے خیال میں مشورہ لینے والوں کے ساتھ جڑ جانا اہم ہے۔ اس میں اُن کو سننا، ہر ایک پہلو پر تبادلہ خیال اور مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے مل کر سوچنا جس میں پیشہ وارانہ ترقی کا پہلو بھی ہو۔ سلار کو فوری ہی پتا چل جاتا ہے اگر کسی کو نفسیاتی مدد کی ضرورت ہو۔" اگر مجھے احساس ہوتا ہے کہ کسی کو طبی سہولیات یا نفسیاتی مدد درکار ہے تو میں مشاورت یا پھر مفت معائنے کی پیشکش کرتی ہوں اور اُنہیں بتاتی ہوں کہ اُن کیلیے اپنی صحت کا خیال رکھنا کتنا ضروری ہے۔"

سلار کہتی ہیں بے شک اُن کے کام میں مسائل بھی آتے ہیں۔ تخصیص کردہ مشاورت میں وقت لگتا ہے اور اس کیلیے اچھی منصوبہ بندی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ واپس آنے والے بعض اوقات اپنی صورتحال کی وجہ سے اس کو پریشان کن محسوس کرتے ہیں۔ لیکن مخصوص راستے پر قائم رہنا ضروری ہے۔ واپس لوٹنے والے تمام افراد اپنے انفرادی منصوبے کیلیے مشیر کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ ایک بار جب منصوبہ تیار ہوجاتا ہے تو جی ایم اے سی کی ٹیم اُنہیں مناسب شراکت دار ادارے میں بھجوادیتی ہے۔ اس میں زیادہ تر لوگ ورکشاپس میں حصہ لیتے ہیں تاکہ وہ اپنی مہارت اور منصوبے کو مزید بہتر کرسکیں۔ جس کے بعد اِس پر عمل کی باری آتی ہے۔

سلار کے خیال میں ایک پائیدار سوچ یا نقطہ نظر واپس آنے والوں کو نئی شروعات کیلیے حقیقی موقع فراہم کرتا ہے۔ "زیادہ تر کے پاس مخصوص پیشہ وارانہ شعبہ جات میں 10 برس کا تجربہ ہوتا ہے لیکن عراق میں اپنا کاروبار شروع کیلیے ضروری وسائل نہیں ہوتے، جیسے کہ کاروباری منصوبہ یا درست رابطے۔ ہمارے مشیر اور شراکت دار ہر سطح پر اُن کی مدد اور اِس پورے سفر میں اُن کی رہنمائی کرسکتے ہیں، کاروبار شروع کرنے کے ابتدائی خیال سے لیکر یا پھر نوکری کے حصول تک۔"

تاوقتیکہ 2021/06

ہر کسی اپنا خود کا پس منظر ہوتا ہے۔
سلار

More blog posts