Skip to main content
مینیو

پاکستانی-جرمن فیسیلیٹیشن اینڈ ری انٹیگریشن سینٹر (لاہور)

پاکستانی-جرمن فیسیلیٹیشن اینڈ ری انٹیگریشن سینٹر (لاہور)

زبانیں:

رابطہ

پاکستانی جرمن فیسیلیٹیشن اینڈ ری انٹیگریشن سینٹر - پی جی ایف آر سی

او پی ایف سائٹ آفس ، ڈی بلاک ، کمرشل ایریا

رائیونڈ روڈ لاہور پنجاب  ‎

:سوموار سے جمعرات
13:00 - 10:00
16:00 - 14:00

:جمعہ
13:00 - 10:00
16:00 - 15:00
* مطلوب خانہ

ڈاکٹر منصور زیب خان

Dr. Mansoor Zaib Khan, Leiter des Beratungszentrums in Pakistan

ڈاکٹر منصور زیب خان

پی جی ایف آر سی کے سربراہ

میرے پاس لیبر مارکیٹ، نقل مکانی اور ٹیکنیکل اور ووکیشنل تربیت کے شعبہ جات کا وسیع تجربہ ہے۔ میں وزارت محنت، انسانی قوت اور بیرون ملک پاکستانی میں کام کرتا رہا ہوں جہاں میں ملازمت، نقل مکانی اور انسانی قوت کی پیداواری صلاحیت کے حوالے سے قومی منصوبہ سازی کا حصہ رہا ہوں۔ پاکستانی-جرمن فیسیلیٹیشن اینڈ ری انٹیگریشن سینٹر میں بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کا پابند ہوں۔

نگہت عزیز

Nighat Aziz, Beraterin in Pakistan

نگہت عزیز

مشیر، خواتین اور ضرورت مند افراد کے لیے رابطہ کار

مجھے آپ کے ساتھ آپ کے نئے کاروبار شروع کرنے منصوبے کے بارے میں بات چیت کر کے خوشی ہوگی۔ اس کے علاوہ، میں مزید تربیت یا نفسی سماجی مدد کا بندوبست بھی کر سکتی ہوں۔ میں آپ کو پاکستان میں مختلف امکانات کے بارے میں معلومات کی فراہمی اور انفرادی مشورہ بھی دے سکتی ہوں ۔ میں نے ہیومن ریسورس مینجمنٹ میں ماسٹرز ڈگری کی ہوئی ہے، اور میں ایک جاب کونسلنگ میں تربیت یافتہ ٹرینر ہوں۔ نئے آغاز میں کبھی دیر نہیں ہوتی! آئیے ایک دوسرے کے ساتھ روشن مستقبل کی بہترین راہیں تلاش کریں

فیصل شبیر

Faisal Shabbir, Berater in Pakistan

فیصل شبیر

مشیر

میں آپ کو ایک اچھی سی وی بنانے کے بارے میں بتا سکتا ہوں۔ اس کے علاوہ، میں ملازمت کے انٹرویوز کے لیے آپ کی تیاری کروا سکتا ہوں۔ مزیدبرآں، میں ایک ایسے پراجیکٹ پر کام کرتا رہا ہوں جہاں میں نے ایک ہزار سے زائد افراد کو کیریئر کونسلنگ فراہم کی اور سینکڑوں نوجوانوں کو اس قابل بنایا کہ وہ ملازمت حاصل کر سکیں۔ میں ایک جاب کونسلنگ کے بارے میں ایک کتابچے کا بھی مصنف ہوں۔ میں ووکیشنل کونسلنگ کے شعبے میں ایک سند یافتہ ٹرینر ہوں۔

محمد شہباز

Ein Portrait von einem Mann in Hemd und Krawatte.

محمد شہباز

مشیر

میری تعلیم آئی ٹی اور ذاتی انتظام کار(پرسنل منیجمنٹ)  میں ہے جو کہ میرےکام کی اساس ہے۔میں آپ کو نئے کاروبار کی شروعات اور نوکریوں کے حوالےسے مشاورت فراہم کرسکتا ہوں اور ساتھ ہی معاشرے سے جڑنے میں آپ کی مدد کرسکتا ہوں۔ میں آپ کو نفسیاتی مدد کی خدمات کے حوالے سے بھی معلومات فراہم کرسکتا ہوں۔میں15سال سے زائد سے قومی اور بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کے ساتھ کام کررہا ہوں۔جو مشاورت میں فراہم کرتا ہوں اُس میں رابطوں، منصوبوں کے انتظام کار،نگرانی اور جائزہ کے وسیع تجربے کا استعمال شامل ہے۔

اقصیٰ خالد

Eine Frau mittleren Alters mit dunkelbraunen Augen und schulterlangen Haaren lächelt in die Kamera. Sie trägt eine pinke, bestickte Abaya. Über ihrer Schulter hängt ein hellgrünes Tuch. Hinter ihr sind verschwommen Bäume und andere Pflanzen zu erkennen.

اقصیٰ خالد

جونیئر وی انٹیگریشن ایڈوائزر

ٓپ کی جسمانی صحت اور نشو نما معاشرے میں دوبارہ انضمام (ری انٹیگریشن) کے لیے اہم ہے۔ میں نے سوشل ورک اور نقل مکانی کی تعلیم حاصل کی ہے اور پاکستان اور بیرون ملک ذہنی صحت اور نفسیاتی مدد کے شعبوں میں کام کیا ہوا ہے۔ میں آپ کو وطن واپسی سے جڑی پریشانیوں سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مدد کر سکتی ہوں۔ اس سے آپ کو جلد ہی معاشرے میں دوبارہ فعال ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔ میں آپ کو آپ کی اپنی صلاحیتوں کو یکجا کرنے اور تناؤ بھرے تجربات کا سامنا کرنے میں مدد کروں گی۔ مجھے آپ کی مدد کرکے خوشی ہوگی جس سے آپ مضبوط اعصاب اور پختہ ذہن کے مالک بن سکتے ہیں جو ایک اچھی زندگی کی جانب ایک قدم ہوگا۔

ملکوں کے تجربات

پنجاب میں بطور فوٹوگرافر کامیابی

میں کورونا کی وبا کے دوران اپنے گھر والوں کے پاس پاکستان واپس آیا۔ پی جی ایف آر سی نے بطور فوٹوگرافر کاروبار شروع کرنے میں میری مدد کی۔ میرا فوٹو سٹوڈیو اب بہت کامیابی سے چل رہا ہے۔

مزید معلومات >

محنت کا صلہ مل گیا

میں کمپنی میں کام کرتی تھی جسے کووڈ – 19 کی وبا کی وجہ سے بند کرنا پڑا۔ تو میں نے روایتی کپڑوں کی فروخت کا آن لائن کاروبار شروع کیا۔ میرا کاروبار کامیاب ہوگیا اور اس کیلیے میں پی جی ایف آر سی ملنے والی مدد کی بہت شکرگزار ہوں۔

مزید معلومات >

بہتر مواقعوں کی تلاش

مجھے جس کی تلاش تھی وہ مجھے مل گیا: میں اپنے آبائی ملک میں بطور ڈرائیور خود مختار ہوں۔ پاکستانی جرمن فیسلیٹیشن اینڈ ری اینٹی گریشن سینٹر نے اس موقع کی تلاش میں میری مدد کی۔

مزید معلومات >

بطور درزی اپنے ذاتی کاروبار کا آغاز

میں جرمنی اس لیے گیا تاکہ اپنے گھر والوں کی مدد کرسکوں۔ میری والدہ بیمار ہوئیں تو میں نے واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستانی – جرمن فیسلیٹیشن اینڈ ری انٹی گریشن سینٹر (پی جی ایف آر سی) نے درزی کی دکان کھولنے میں میری مدد کی۔

مزید معلومات >

ایک خوش دکاندار پاکستان میں

پاکستانی جرمنی فیسیلیٹیشن اینڈ ری اینٹی گریشن سینٹر کی جانب سے فراہم کردہ مدد سے اب میں اپنا کاروبار کامیابی سے چلارہا ہوں۔

مزید معلومات >

آخر کار اپنے گھر والوں کے پاس واپسی۔

تربیتی پروگرام نے مجھے سکھایا کہ اپنا ٹیکسی کا کاروبار کیسے چلانا ہے۔

مزید معلومات >

اپنا کاروبار۔۔۔ جذبہ اور روایت

میں نے پی جی ایف آر سی کی مدد سے کپڑوں کا کاروبار قائم کیا۔میری مشہوری میں سوشل میڈیا کااستعمال بھی شامل ہے۔

مزید معلومات >
مزید جانیں